fbpx

الہ دین پارک کی نیلامی، دو ارب سے ذائد ٹیکس ہڑپ

الہ دین پارک دو ارب سے ذائد ٹیکس ہڑپ کرگٸی

بلدیہ عظمی کراچی (KMC)کی ناہلی غفلت اور لاپروہی کے با عث الہ دین پارک انتظامیہ نے ایک الگ ریاست قائم کرلیا ہے،کسی اداروں کے عملے کو داخلہ پر پابندی ی عائدکررکھا ہے، KMC،ایکسائز، پراپرٹی و تفریحی ٹیکس، انکم ٹیکس کے ساتھ KWSBکے دو ارب سے ذائد فنڈز ہڑپ کرچکا ہے 52ایکٹراراضی کے ساتھ 13ایکڑ اراضی پر قبضہ کررکھا ہے،جن میں صرف KMCکے ایک ارب سے ذائد فنڈز موجود ہیں پانی اور سیوریج کا آج تک ٹیکس ادائیگی نہیں کیا جبکہ پارک میں چار،چھ انچ قطر کے اٹھ سے ذائد پانی کے کنکشن موجود ہے KWSBکا عملہ پارک میں داخل نہیں ہوسکتا، اگر 25سالوں کا ٹیکس جمع کیا جائے تو 60کروڑ روپے وصول ہوسکتا ہے، ایس طرح ایکسائز اینڈ ٹیکس کے کئی مقدمات عدالتوں میں زیر التواء انکم ٹیکس بھی کئی سالوں سے طوری جاری ہے، دونجی کلب کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار سلسلہ بھی عروج پر ہے،مصدق ذرائع کے مطابق الہ دین امیوزیم پارک میں ایک بار پھر رشوت، کمیشن،کیک بیک اور چمک کے ذریعہ شمسی اینڈ کمپنی کے مالک ابرہیم شمسی سرگرم عمل ہے، ایڈمنسٹریٹر الہ دین پارک کے انتظامیہ نے KMC اور سندھ حکومت سے براہ راست ملاقاتیں شروع کررکھی اور پارک کی اراضی کے نیلامی کو روکنے پر بضد ہے براہ راست دوبارہ کنٹرول اور الاٹمنٹ حاصل کے لئے کوشش تیز کردی ہے، KMC کے افسران اور دیگر عملے بھی نیلام عام روکنے میں سرجوڑ لیا اور اندورن خانہ الہ دین پارکس کی نیلام عام میں رکاوٹ پید اکیا جائیگا دلچسپ امریہ ہے کہ نئے SLGO2013کے تحت KMCکو ایک سال سے ذائد کسی اراضی کا الاٹ نہیں کرسکتی، پہلے معاہدہ میں KMCکو نگرانی کے بجائے الہ دین پارک انتظامیہ کے ہاتھ یرغمال بنادیا تھا تجارتی چلنے والے تمام کاروبار میں رکاوٹ پیدا کیا جارہا ہے،KMCنے 22اپریل 1996ء میں 25سالہ ایک معاہدہ کے تحت 52 ایکڑ شمسی اینڈ کمپنی کو زمین آلا ٹ کی تھی۔

تفریحی سہولیات کے ساتھ تجارتی بنیاد پر پورے پارکس کو آمدن کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ایک الادین پارکس کی انتظامیہ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو کلب بنائیں، شادی لان، 480دکانیں، اندروں خانے 10فیصد سے بڑھ کر 70فیصد رقبہ کو کمرشل کرلیا ہے آمدن میں KMCافسران اپنا حصہ وصول کرکے اپنی آنکھیں اور کان بند اور زبان خاموش ہوگیا ہے،KMCکے ایڈمنسٹریٹر ز اور منتخب میئر نے معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی پر نہ تو ایکشن لیا اور نہ ہی الہ دین اتظامیہ پر کسی قسم کا دباو بڑھایا، بلکہ داخلہ فیس، جھولوں اور دیگر کی فیس بھی کسی اجازت کے بغیر بڑھاتے رہے ہیں اس بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ جسٹس عمر خان سعادت اور جسٹس ذوالفقار احمد خان نے تاریخی فیصلہ دیا اور الہ دین پارک کی انتظامہ کے تین مختلف مقدمات پر حکم امتناعی خارج کیااور الہ دین پارکس کا انتظامKMCکے حوالے کرتے ہوئے ایسے از نو نیلام عام کرنے کی ہدایت کردیا، عدالت میں جنرل سندھ عبدالجلیل زبیری ایڈووکیٹ،الادین پارک کاوکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ،KMCکے پینل ایڈووکیٹ حسن عابدی ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے،سو ل پیٹشن نمبر2651/2020کا حتمی فیصلہ سنادیا ہے اور الادین پارک کی 25سالہ معاہدہ بھی ختم جس سے KMCکی آمدن بڑھنے کی توقع تھی اورماہ اپریل کی 22تاریخ میں مکمل طور پر انتظامی کنٹرول KMCکے حوالے کیا جانا تھا۔11مارچ کو ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کے دستخط سے جاری ہونے والے حکمنامہ میں میٹروپولیٹن کمشنر کی سربراہی میں الہ دین پارکس کے مسئلہ پر ایک کمیٹی تشکیل دیا تھا ۔کمیٹی میں اسٹیٹ، فنانس،قانون، لینڈ اور اسپورٹس کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹرز پر مشتمل ہیں اس حکمنامہ کو عدالت میں الادین پارک نے چیلنج کرتے ہوئے حکم امتنائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اورKMCافسران پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 20اپریل سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دیلائل مکمل ہوگئے ۔

عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے آئندہ چند روز میں فیصلے ہونے کی توقع ہے،،عدالت میں فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے KMCکے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نئے نیلام عام کے دوران امیوزیم پارکس تمام اراضی کو گذشتہ معاہدہ کے تحت شمسی اینڈ کمپنی کوترجہی دینے چاہیے تھاپارکس کو بنانے اور اس کے ترقی کے ساتھ ساتھ کروڑ روپے سرمایہ کاری کیا ہے اور نیلام عام کے دوران سب سے ذائد بولی دینے والے پہلے نمبر شمسی اینڈ کمپنی کا ہوگااگر بولی میں حصہ نہ لیئے تو دوسرے نمبر آنے والی فرم کوموقع دیا جائے گایااگر بولی میں سب سے کامیاب ہونے والے کے مساوی معاہدہ اور اراضی کی لیز دیا جائیگا لیکن KMCنے ایک حکمنامہ کے تحت پارکس کی نیلام عام کی شرائط اور معاہدہ کی دستاویزات تیار کرنے کے لئے 11مارچ کو ایک کمیٹی تشکیل دیدی تھی واضح رہے کہ الادین پارک کی اراضی تفریحی اور عوامی سہولیات کے برعکس تجارتی بنیادوں پر چلارہے تھے،10فیصد تجارتی بنیاد پر دینے کی شرائط پر عملدآمدکے بجائے 70فیصد جگہوں پر دوکانوں کی تعمیرات اور غیر قانونی پتھاریں، کین،سڑکیں، فٹ پاتھیں، راہداری اور گزاروں پر قائم کردیا گیا ہے پارکس کے اندر اکثریت دکانیں غیر قانونی طور پر سفاری پارکس اور KMCکے افسران کے نام ہے یا ان کے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کے نام پر کرنے کی تصدیق پارکس انتظامیہ نے کیاہے تاہم انتظامیہ نے بھی کمرشل دکانین سفاری پارک کے ڈائریکٹرز کی مشاورات سے کیا گیا ہے باہمی تعاون ہونے کی وجہ سفاری پارک انتظامیہ نے کاروائی نہیں کیا تجارتی سہولیات کے باعث فیملی کو جگہ تنگ پڑ گئی ہے، نہ کسی ایس او پی پر عمل ہورہا ہے اور حفاظتی انتظامات بھی ناکافی ہے،اور انسانی جانیں کے نقصان، حادثات یا ناگہانی واقعہ رونما ہوسکتا ہے،گذشتہ دس سالوں کے دوران،الادین پارکس کی انتظامیہ نے ان دکانوں کو نظرانداز کیا۔یہ عمل آؤٹ لیٹ مالکان سے سائٹ کے عہد یداروں کے غیر قانونی مطالبات پر پابندی عائد کرنے کے بعد ممکن ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.