البانیہ میں قرآن کا معجزہ جسےدیکھ کرمسیحی خاندان نے اسلام قبول کیا تھا

0
120

البانیہ کے ایک مسیحی خاندان نے ملک میں ماضی میں ہونے والے انتشار اور جنگوں کے دوران زمین سے ملنے والی دفن لاش اور چھوٹے قرآن کریم کو دیکھ کر ماضی میں اسلام قبول کیا تھا تب سے آج تک یہ خاندان اس نایاب قرآن کریم کے نسخے کی نسل در نسل حفاظت کرتا آ رہا ہے۔

باغی ٹی وی :دی ایکسپریس ٹریبون کے مطابق اس خاندان کے 45 سالہ فرد ماریو بروشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ میرے پڑ پڑ دادا کوسووو کے شہر جا کو ویکا میں ایک نئے گھر کے لیے زمین کھود رہے تھے جب انہیں وہاں دفن ایک شخص کی بالکل سالم لاش اور ایک انتہائی چھوٹا قرآن اُس کے دل کی جگہ پر رکھا ہوا ملا قرآن پاک اور لاش کو یوں بالکل محفوظ حالت میں ملنا ہمارے خاندان کے لیے خدا کا ایک معجزہ تھا جس سے پورا خاندان ہی متاثر ہوا اور اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا-

کینیڈا: البرٹا میں کئی مقامات پر لگی جنگلات کی آگ بے قابو ہوگئی ،ایمرجنسی نافذ

ماریو بروشی نے مزید بتایا کہ ان کے دادا جو 1930 کی دہائی میں البانیہ کے بادشاہ زوگ کی فوج میں ایک افسر تھے، عربی جانتے تھے اور ہر رات دوستوں کو اس قرآن کی تلاوت کے لیے اپنے گھر بلاتے تھے تاہم کچھ عرصے بعد اینور ہوجا کی کمیونسٹ حکمرانی میں تمام مذاہب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور ان کے ماننے والوں کو قید کرنا شروع کردیا گیا لیکن یہ قرآن بچ گیا کیونکہ اسے آسانی سے چھپایا جا سکتا تھا۔

ماریو بروشی نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار کسی نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دے دی تھی کہ ہمارے گھر میں قرآن موجود ہے مگر چونکہ یہ قرآن کافی چھوٹا ہے اس لیے میرے والد اسے چھپانے میں کامیاب ہو گئے پولیس والوں نے پورا گھر تہس نہس کر دیا مگر قرآن کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے، جس کے بعد آج تک ہم اس قرآن کی حفاظت کا اہتمام نسل در نسل پوری لگن سے کرتے آ رہے ہیں-

شمسی توانائی سے چلنے والے ماحول دوست ”شمسی چولہے“

ماریو بروشی نے یہ بھی بتایا کہ ’اس چھوٹے سے قرآن کریم کے نسخے میں بہت سی کہانیاں، برکات اور معجزات ہیں ماریو کی اہلیہ قرآنِ کریم کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’جب بھی میں اسے چھوتی ہوں، میں خود کو محفوظ سمجھتی ہوں قرآن ہمارے لیے خوش قسمتی لایا ہے، جب بھی میری بیٹیاں بیمار ہوتی ہیں یا کچھ بھی برا ہوتا ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ہمیں یہ یقین ہے کہ قرآن ہماری حفاظت کرے گا-

ماریو ہر روز قرآن کو بوسہ دینے سے پہلے اپنے ہاتھ اور منہ کو دھوتے ہیں اور بوسہ دینےکے بعد اُسے اپنی پیشانی سے لگاتے ہیں یہ صرف دو سینٹی میٹر (0.7 انچ) کا ہےسائنسی تجزیےکی عدم موجودگی میں قرآن کو تاریخ میں لانا مشکل ہےلیکن ترانہ کی بیڈر یونیورسٹی میں قرآنی علوم کے محقق ایلٹن کاراج کے مطابق – 900 صفحات پر مشتمل یہ نسخہ کم از کم 19ویں صدی سے موجود ہے اس کی اشاعت 19ویں صدی کے آخر تک کی گئی ہے اور اب تک کے ریکارڈ میں موجود دنیا کے سب سے چھوٹے ترین قرآن میں سے ایک ہے۔

لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات …

کاراج نے کہا کہ یہ قرآن ایک بہت ہی چھوٹی شکل میں چھاپا گیا تھا، جو دنیا کی سب سے چھوٹی کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ظاہری شکل سے، اس کی اشاعت 19ویں صدی کے آخر تک کی گئی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کام ہے، بہت قیمتی ہے۔ یہ خوش قسمتی ہے کہ یہ نسخہ البانیہ میں ہے-

ماریو بروشی نے بتایا کہ اس چھوٹے قرآن کریم کے حصول کے لیے ہمیں اب تک کئی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے کچھ عجائب گھروں سے آئیں لیکن اس خاندان نے تمام آفرز کو ٹھکرا دیا۔

ساس نے حاملہ بہو کو زندہ جلا دیا

Leave a reply