علی ظفر کیخلاف مہم:عدالت میں پیش نہ ہونے پر علی گل پیر کے گرفتاری وارنٹ جاری

لاہور :عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس میں ملزم علی گل کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

باغی ٹی وی : گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سماعت ہوئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری نے سماعت کی۔

مقدمے میں ملوث ملزمان اداکارہ عفت عمر، لیناغنی، فریحہ ایوب، حسیم الزمان اور سید فیضان سمیت 5 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ چالان کے مطابق ملزمان عفت عمر،لینا غنی، فریحہ ایوب، علی گل، حسیم الزمان اور سید فیضان رضا ضمانت پر ہیں۔

عدالت نے ملزم علی گل کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ عدالت نے میشاشفیع کے خلاف چالان پیش نہ کرنے پرایف آئی اے حکام پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف ہتک آمیز پوسٹس لگائیں۔

واضح رہے کہ علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔

علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

اداکار و گلوکار نے ایف آئی اے کو انسٹاگرام پر اپنے منیجر کو فروری 2018 میں ملنے والی دھمکیوں کے ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔

علی ظفر کی درخواست پر ایف آئی اے نے مذکورہ کیس کی تفتیش کرکے گزشتہ ماہ 16 دسمبر کو عدالت میں ابتدائی عبوری چالان بھی پیش کیا تھا، جس میں میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.