fbpx

شہبازشریف اورحمزہ شہبازکےخلاف عالیہ حمزہ میدان میں‌ آگئیں‌:سارے پردے ہی چاک کردیئے:خاندان سخت پریشان

لاہور:شہبازشریف اورحمزہ شہبازکے خلاف عالیہ حمزہ کا بڑا اقدام :سارے پردے ہی چاک کردیئے،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے کارہائے نمایاں کو بے نقاب کرتے ہوئے عالیہ حمزہ نے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کو خط لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مجرموں کو ریلیف دینے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ،

پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے چئیرمین پی اے سی کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف فیملی کے ملازمین کے اکاونٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں اور یہ حقائق ساری دنیا کے سامنے ہیں

عالیہ حمزہ نے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کو خط لکھتے ہوئے کہا ہےکہ ان حالات میں جبکہ ایک شخص کی کرپشن اب بینک سٹیٹمنٹس کے ثبوتوں کے ساتھ موجود ہے تو شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر رہنے کا کوئی جواز نہیں، عالیہ حمزہ نے درخواست میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ایک کرپٹ انسان نہیں ہو سکتا،اس لیے کرپشن کے بے تاج بادشاہ اور سابق حکمران خاندان کے مرکزی کردار شہباز شریف کی سربراہ اپوزیشن کی حیثیت ختم کردے

عالیہ حمزہ نے چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی سے سوال کیا ہے کہ ان حالات میں جبکہ تمام ثبوت لف ہیں کیا پی اے سی اپوزیشن لیڈر کی کرپشن پر خاموش رہے گی؟
عالیہ حمزہ نے درخواست کی ہے کہ پی اے سی شہباز شریف کی کرپشن پر احتساب کرے،

عالیہ حمزہ نے اپنے خط میں حقائق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی اے سی شہباز شریف فیملی ملازمین کے اکاونٹس سے اربوں روپے کی منتقلی کا نوٹس لے،
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شریف فیملی کے ملازمین کے اکاونٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی،

خط میں انکشاف کیا ہے کہ ہزاروں روپے تنخواہ والے ملازمین کے اکاونٹس سے کروڑوں روپے شہباز شریف کے اکاونٹ میں منتقل ہوئے،عالیہ حمزہ نے ثبوت دیتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے نے شریف فیملی کے 14 ملازمین کے 28 بے نامی اکاونٹس کا سراغ لگایا، خط کے ذریعے چیئرمین پی اے سی سے پوچھا گیا ہے کہ کیا پی اے سی کا کام پبلک آفس ہولڈر کی کرپشن بے نقاب کرنا نہیں؟

عالیہ حمزہ نے کہا کہ شہباز شریف جواب دیں، ہزاروں روپے ماہانہ کمانے والے ملازمین کے اکاؤئنٹس میں کروڑوں روپے کہاں سے آئے،ملازمین کے مرنے کے بعد بھی ان کے اکاؤنٹس سے شہباز شریف اور فیملی کے اکاؤنٹس میں پیسے آتے رہے،اس خط میں کچھ حقائق پیش کرنے کے بعد پھرپوچھا گیا ہے کہ کیا پبلیک اکاؤنٹس کمیٹی اپوزیشن لیڈر کی اس ننگی کرپشن پر خاموش رہے گی؟

پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ کیا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے کہ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر رہیں؟ پارلیمانی سیکرٹری نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر مطالبہ کرتی ہیں کہ پی اے سی شہباز شریف کا احتساب کرے،

ذرائع کےمطابق پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نےمطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہیں اور اکاونٹس سے رقوم منتقلی کی تفصیلات بھی جاری کر دیں۔
وہ انکشاف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ملک مقصود چپڑاسی کی تنخواہ 25 ہزار، اکاونٹ میں 3.74 ارب روپے ڈپازٹ ہوئے، محمد اسلم کیشیئر کی تنخواہ 10 ہزار، 1.781 ارب روپے ڈپازٹ ہوئے،اظہر عباس کلرک کی تنخواہ 9 ہزار، 1.677ارب روپے ڈپازٹ ہوئے۔غلام شبیر قریشی سٹور کیپرکی تنخواہ 10600، 1.545ارب روپے ڈپازٹ ہوئے

پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے مزید انکشافات کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خضرحیات نذر اسسٹنٹ کی ماہانہ تنخواہ 21 ہزار 5 سو، 1.425ارب روپے ڈپازٹ ہوئے، گلزار احمد چپڑاسی کی تنخواہ 12 ہزار 8 سو، 1.2ارب روپے ڈپازٹ ہوئے۔ایسے ہی اقرار حسین کلرک کی تنخواہ 13 ہزار، 1.186ارب روپے ڈپازٹ ہوئے۔ایم انور اسسٹنٹ 15 ہزار تنخواہ، 88.3 کروڑ روپے ڈپازٹ ہوئے۔

پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے شہباز کی شریفانہ کرپشن کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایم یاسین گودام کلرک کی تنخواہ 31 ہزار، 71.5 کروڑ روپے ڈپازٹ ہوئے۔ توقیرالدین اسلم ملازم کی تنخواہ 21 ہزار، 48 کروڑ روپے ڈپازٹ ہوئے۔ظفر اقبال انجم اسسٹنٹ کی تنخواہ 14 ہزار، 52.5 کروڑ روپے ڈپازٹ ہوئے۔

پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے کرپشن کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی سے کہا ہے کہ انصاف کا تقاضا یہی ہےکہ میاں شہبازشریف کوکرپشن اور ان جرائم کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے الگ کیا جائے اور جب تک ان کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوجاتامیاں شہبازشریف کو ایک قومی مجرم سمجھ کرکسی بھی قسم کے حکومتی عہدے سے الگ کیا جائے