علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کیخلاف سائبر کرائم ونگ میں درخواست دے دی

پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ معروف گلوکاراور اداکار علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دی ہے۔

باغی ٹی وی :علی ظفرکوحکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس ملنے پرتنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اورسوشل میڈیا پر ان کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ اوران کی تصاویرغیر اخلاقی ویڈیوز کلپ کے ساتھ شیئر کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر میشا شفیع کے اسکینڈل کو پھرسے نمایاں کرکے کہا جارہا ہے کہ وہ پرائڈ آف پرفارمنس کے حق دار نہیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کچھ لوگوں نے فیس بک اور ٹوئٹرسمیت یوٹیوب پر ان کے مخصوص گانوں اور فلموں کے سینز کو ایڈٹ کرکے نازیبا الفاظ کے ساتھ وائرل کردیا ہے اور یہ سلسلہ تواترکے ساتھ جاری ہے۔

جس پر علی ظفر نے ایف آئی اے کو جو درخواست دی ہے اور اس کے ساتھ یہ ثبوت بھی فراہم کیے ہیں اور ان ثبوتوں کی بنیاد پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے تحقیقات شروع کی ہیں۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈائریکٹرسائبر ونگ لاہور ابوزر سبطین کا کہنا ہے کہ انہیں علی ظفر کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے اور قانون کے مطابق اس پر کارروائی کریں گے۔

دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے کیس کی تحقیقات بھی ایف آئی اے سائبرونگ ہی کررہا ہے جو آخری مراحل میں ہے۔ جلد ہی اس کیس میں ملوث افراد کو گرفتارکر کے قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس کیس میں پاکستان ڈرامہ انڈسٹری اور شوبز سے وابستہ کئی افراد اس حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

اس سے قبل عورت مارچ، عورت آزادی مارچ، ویمن ایکشن فورم اور تحریک نسواں کی جانب سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا ہے۔اس میں کہا گیا کہ صدارتی دفتر کی جانب سے علی ظفر کو تمغہ حسن کارکردگی دینے کے فیصلے پر ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد ہیں اور اس حوالے سے مقدمات تاحال جاری ہیں علی ظفر کے خلاف سپریم کورٹ میں ہراسانی اور ہتک عزت کا ایک مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ لاہور میں زیر التوا ہے- جبکہ اس دوران یہ اعزاز دیے جانے کا وقت انتہائی پریشان کن اور بے حسی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ ہم اس تمغے کے عزت و احترام کو داغدار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

خط میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ پریشان کن اس لیے ہے کیونکہ اس سے تاثر جاتا ہے کہ ریاست پاکستان نادانستہ طور پر زیر التوا فیصلوں سے قطع نظر جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کے ساتھ کھڑی ہے۔

جس کے بعد اس خط کے بعد علی ظفر کی وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی سامنے آئیں اور خط پر ردعمل دیا بیرسٹر عنبرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیمیں دوسروں کے حقوق غضب کررہی ہیں اور بدنام کرنے کی مہم کا حصہ بن رہی ہیں۔

علی ظفر کی وکیل نے لکھا کہ مس شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایت پنجاب محتسب کے بعد گورنر پنجاب اور یہاں تک کہ لاہور ہائی کورٹ بھی خارج کرچکی ہے اور سپریم کورٹ نے اب تک لاہور کی عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت نہیں دی۔

بیرسٹر عنبرین نے لکھا کہ میشا شفیع کی جانب سے ہتک عزت کا نام نہاد کیس بھی عدالت نے علی ظفر کے کیس کے فیصلے تک روک دیا ہے جس میں انہوں نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا لہذا ان کے خلاف زیر التوا کیسز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا-

انہوں نے لکھا کہ وہ تنظیم جو انصاف کے عالمی قانون کہ قصوروار ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ ہوتا ہے کی حامی ہے وہ صدر پاکستان کو لکھے گئے خط میں کیس کے حقائق کو غلط انداز میں پیش کررہی ہے۔

علی ظفر کی وکیل نے لکھا کہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف زیر التوا مقدمات کی نوعیت سول اور مجرمانہ ہے ان میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں مسٹر ظفر کے خلاف مذموم مہم کا حصہ بننے والوں کے خلاف بھی کیسز دائر ہیں علاوہ ازیں اس حوالے سے ایف آئی اے سائبر کرائم میں الیکٹرونک کرائمز ایکٹ کے تحت ایک تفتیش زیر التوا ہے۔

بیرسٹر عنبرین قریشی نے لکھاکہ میڈیا اور دیگر افراد حقائق کا جائزہ لیے بغیر دھوکا دہی اور بدنام کرنے سے متعلق بیانیے پر مبنی غیر ذمہ دار بیانات کا شکار نہ بنیں۔

واضح رہے کہ وم آزادی 2020 کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا یہ ایوراڈز آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر نوازے جائیں گے-

صدر مملکت کی جانب سے 24 شخصیات کے لیے ستارہ شجاعت، 27 کے لیے ستارہ امتیاز، 23 کے لیے تمغہ شجاعت، 46 کے لیے تمغہ امتیاز، 7 کے لیے نشان امتیاز، 2 کے لیے ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، 2 کے لیے ستارہ پاکستان، 6 کے لیے ستارہ قائد اعظم، ایک کے لیے ستارہ خدمت، ایک کے لیے تمغہ پاکستان، ایک کے لیے تمغہ قائد اعظم جبکہ 44 شخصیات کے لیے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا تھا۔

صدر مملکت نے غیر ملکی شخصیات کے علاوہ میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے ان میں گلوکار علی ظفر بھی شامل ہیں۔

علی ظفر نے حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کے لیے نامزدگی پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا اور نامزدگی کو بہت بڑا اعزاز قرار دیا تھا۔

علی ظفر کے خلاف پروپیگنڈہ پر سوشل میڈیا صارفین نے عفت عمر کو کھری کھری سنا دیں

پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد ہونے پر علی ظفر اللہ تعالیٰ اور حکومت کے…

علی ظفر کے خلاف کوئی کیس نہیں یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ حقوق نسواں کی علمبردار…

خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کا علی ظفر کو ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے پر شدید…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.