روزہ ہمیں برداشت،حُسن سلوک اوربھائی چارے کا درس دیتا ہے، علامہ موسوی اورعلامہ حقانی کی باغی ٹی وی میں علمی گفتگو

لاہور:روزہ ہمیں برداشت ، حُسن سلوک اور اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے ، علامہ موسوی اورعلامہ حقانی کی باغی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں علمی گفتگو،باغی ٹی وی کے مطابق رمضان المبارک کے مبارک مہینے میں رمضان ٹرانمیشن میں آج بھی بہت اہم امور اورمسائل بھی گفتگو کی گئی

باغی ٹی وی کے مطابق علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ اخلاق تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کا ہے ہمیں ان کی زندگی سے سبق لینا چاہیے وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ہمیں ان کی اطاعت کرنے کا حکم ہے ،جب تک ہم آپ کے اخلاق کو نہیں اپنائیں گے ہمارے معاملات بہتر نہیں ہوں گے ،

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ روزہ بھی یہی سکھاتا ہےکہ ہم اپنے اندربرداشت اچھے اخلاق اوراطاعت رسول کو اپنائیں ، ان کا کہنا ہے کہ اگرروزہ رکھ کرہمارے اندرکوئی تبدیلی نہیں آتی توپھرہمیں غورکرنا چاہیے کہ ہمارا رمضان کیسا گزرا

علامہ عبد الشکور حقانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اختلاف رائے کا ہونا ایک فطری بات ہے لیکن اس اختلاف پرلڑنا یہ جائز نہیں ،

ایک سوال کے جواب میں علامہ موسوی نے کہا کہ کوئی تصویر یا ایسی چیز جس کو قبیح تصور کیا جاتا ہے کو دیکھنے سے روزہ نہں ٹوٹتا ، علامہ حقانی نے کہا کہ یہ درست ہے اوربعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپڑے بدلنے سے وضور ٹوٹ جاتا ہے یہ بھی نظریہ درست نہیں ایسے وضو نہیں ٹوٹتا

ایک سوال کے جواب میں مولانا حقانی نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے ، اورگناہ ہے ، انہوں‌نے کہا کہ جولوگ رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں جس سے مہنگائی پیدا ہوتی ہے ، یہ درست نہیں حالانکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اللہ رمضان المبارک میں رزک بڑھ جاتا ہے ، پھرہم ایسے لالچ کیوں کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ مغرب میں لوگ غیرمسلم ہونے کے باوجود اسلامی نظام معاشرت کو اپناتے ہیں

ایک سوال کے جواب میں علامہ موسوی نے کہا کہ معاشرے میں امن وبھائی چارہ پیدا کرنے کےلیے علما کے مثبت کردار کی اشد ضرورت ہے ، ان کاکہنا ہے کہہ علما میں عدم برداشت ہے جس کا نقصان امت کو ہے ، ان کا کہنا ہےکہ علما کو چاہیے کہ وہ اس معاشرے کو اسلامی اورکامیاب دیکھنے کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کریں‌، علما اخلاق کے علمبردار بنیں ، ایک دوسرے کو کافر نہ کہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں،

 

علامہ موسوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اللہ کے رسول تو غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے لیکن ہم کلمہ گوایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے ان کا احترام نہیں کرتے ، ان کو برداشت نہیں کرتے ، ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک میں ایسے نہیں ہے ، تمام مذاہب والے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ، لیکن ہمارے ہاں عدم برداشت ہے

علامہ حقانی نے اس بات کوآگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں‌اس بات کو روکنے کے لیے کچھ قوانین کا نفآذ ضروری ہے ، آذان کے علاوہ مساجد کے سپیکرپرپابندی ہونی چاہیے ، جوعلما اوردوسرے مسالک کے علما صحابہ کرام اور دوسری شخصیات کے بارے میں اگرکوئی دل آزاری کی بات کریں‌تو ان کو سزا ہونی چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ اپنا مسلک کوئی بھی لیکن وہ دوسروں پراس کو مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے

علامہ موسوی نے کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے ملک میں ہے دوسرے ممالک میں ایسے نہیں ہندو،عیسائی اوردوسرے ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہیں وہاں قانون ہے ، ہمیں بھی اس قسم کے قانون اپنانے چاہیں

ایک سوال کے جواب میں علامہ حقانی نے کہا کہ روزہ جسم کی زکوۃ ہے ،روزہ ہمارے جسم کی زکوۃ ہے اس سے ہمارے جسم کو پاکیزگی ملتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزہ رکھنے سے ہمارے جسم کو نہ تو کمزوری ملتی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے، اس لیے ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے

علامہ موسوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں معاشرے میں عدم برداشت ختم کرنے کے لیے محراب وممبرکو بھرپورکردار ادا کرنا چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک اوراس کے رہنے والے بڑے ہی قابل احترام اوراچھے لوگ ہیں ہمیں ان کی اصلاح کےلیے علماسے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ اپنا کردار اداکریں‌

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ ہمارے ہاں اس مقصد کے لیے سرکاری سطح‌پراسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے بنائے گئے لیکن اس نے بھی فعال کردارادا نہ کیا ، ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ آگے نہیں بڑھیں‌گے اوراپنے اہل وطن کی رہنمائی نہیں کریں گے حالات میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی

 

 

ایک سوال کے جواب میں علامہ حقانی نے کہا کہ اگرروزے کی حالت میں کوئی غصے سے کسی کے ساتھ پیش آجائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس رویے کی معذرت کرے اورآئندہ ایسا رویہ نہ اپنانے کا عہد کرے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.