روزہ کب ٹوٹ جا تا ہے،روزہ دارکوکن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے، علامہ حقانی ،علامہ موسوی کی باغی ٹی وی میں علمی گفتگو

لاہور:کن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، روزہ دارکے لیے کون سے امورضروری ہیں ، علامہ عبدالشکورحقانی ،علامہ حسنین موسوی کی باغی ٹی وی میں علمی گفتگو،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی سوشل میڈیا رمضان ٹرانسمیشن میں رمضان المبارک کی مبارک گھڑیوں اورروزے کے مسائل کے حوالے سے سوال وجواب کا سلسلہ جاری ہے ، آج ہونے والی نشست میں روزہ کی سلامتی اوراس پراثرانداز ہونے والے امور سے متعلق علامہ عبدالشکورحقانی اورعلامہ سید حسنین موسوی نے بہت پیاری اورعلمی گفتگو کی ،

باغی ٹی وی کے مطابق کل کی گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے علامہ موسوی نے کہا کہ بسمہ اللہ الرحمن الرحیم کی برکت اتنی ہے کہ اللہ تعالی نہ صرف پڑھنے والے پررحمت فرماتے ہیں بلکہ پڑھنے والے کے والدین تک اس کے اثرات پہنچاتے ہیں ، یہ مہینہ تو ویسے ہی رحمتوں کا مہینہ ہے اس میں عبادات اورذکرالہٰی کے کیا فیوض وبرکات ہوں گے ،

 

علامہ موسوی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رزق حلال کے بغیرکوئی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی ، انہوں نے کہا کہ ایک بندہ روزہ بھی رکھے اورسود بھی کھائے ، ناجائز کمائی کرے ، شراب کے پیسے سے زندگی گزارے اورپھردعاکرے کہ اس کی عبادات قبول ہوں ایسا نہیں ہوسکتا

علامہ عبدالشکور حقانی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تذکیہ نفس بہت ضروری ہے ، تذکیہ نفس کے لیے اہل علم لوگوں کی رہنمائی ضروری ہے ، ان کے سامنے اپنی روحانی بیماریاں رکھیں‌ اوروہ ہمیں ان بیماریوں سے بچنے کا روحانی علاج بتائیں‌

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ جب تک انسان کے دل سے "میں ” نہیں نکالے گا تذکیہ نفس نہیں ہوگا ، اس لیئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے تذکیہ نفس کیا جائےپھراللہ کے دربارمیں خلوص دل سے اللہ کی عبادات کی جائیں تو اللہ کی رحمت کا نزول ہوگا

علامہ سید حسنین موسوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سب کچھ ایک بذرگ ایک نیک آدمی سے مل جائے گا ، تو یہ نظریہ درست نہیں ہے ، یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایسے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں جو صاحب علم نہیں ہوتے ، صاحب حلم نہیں ہوتے ، یہ جائز نہیں ہے ، ہاں جولوگ کسی صاحب علم اورکسی نیک اورولی اللہ کے پاس جاتے ہیں تو ان کو ان کی عقیدت کے مطابق مل جاتا ہے

علامہ عبدالشکور حقانی نے ایک خوبصورت بات بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہالت ہے اورلوگ عقیدت کے نام پراس قدر خلاف شریعت کام کرتے ہیں کہ کوئی ان کی رہنمائی نہیں کرتا ، انہوں‌نے کہا کہ جہاں آج کل سوشل میڈیا اس وقت ہر میدان میں فی الفور ردعمل دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ان جاہل اوربے دین لوگوں کے قریب لوگوں کوجانے سے روکیں ،

ایک سوال کے جواب میں علامہ عبد الشکورحقانی نے بتایا کہ دنیااور دین کو الگ الگ سمجھنا غلط ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دین اوردنیا کی گفتگو ، دین اوردنیا کے امور کو ایک ہی وقت میں نمٹانے میں انسان کی نیت کارفرما ہوتی ہے ، اس لئے ہمیں نیک نیتی کے ساتھ اپنے معاملات نمٹانے چاہیں

علامہ سید حسنین موسوی نے اللہ کے ہاں قبولیت کے اوقات کے بارے میں ایک سوال کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہجد کا وقت اللہ کے ہاں بڑی قبولیت کا وقت ہے اس وقت جو بھی دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں ، اور دوسرا وقت جب مومن روزہ افطارکرتا ہے یہ وقت بھی قبولیت کا وقت ہے

علامہ عبدالشکور حقانی نے احترام رمضان المبارک کے متعلق بہت خوبصورت بات کرتے ہوئے کہا کہ احترام رمضان یہ ہے کہ روزے رکھیں ،عبادات کریں، قرآن کی تلاوت کریں ، اللہ کے حکم کے مطابق تمام عبادات کی جائیں اوردوسری صورت یہ ہے کہ اگرکوئی روزہ نہیں رکھ سکتا تو وہ روزہ داروں کے سامنے ایسے امور سرانجام نے دے کہ جس سے روزہ داروں کو تکلیف ہو، اگرروزہ رکھ نہیں سکتے تو احترام رمضان میں سب کے سامنے کھانا نہیں پینا نہیں چاہیئے

ایک سوال کے جواب میں علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ بیمارآدمی جوسخت بیمار ہے اورایسا آدمی جوبظاہر تو بیمار نہیں لگتالیکن وہ روزہ رکھے تو زیادہ بیمار ہوسکتا ، انہوں نے کہا کہ بیمار شخص کو جب وہ صحت مند ہو رہ جانے والے روزوں کی قضا کرے ، انہوں نے کہا کہ جو شخص روزے رکھ ہی نہیں‌سکتا اس قدر بیمار ہوتو اس کوفدیہ دینا چاہیے ، ایک اورسوال کے جواب میں کہا کہ کوئی کسی دوسرے کا روزہ نہیں رکھ سکتا ،

علامہ سید حسنین موسوی نے علامہ عبدالشکورحقانی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ صرف بیمار کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنے رہ جانے والے روزوں کو بعد میں پورا کرلے لیکن جوجان بوجھ کرروزہ چھوڑے گا تو اس کو کفارہ ادا کرنا ہوگا اس کے لیے اس ک 60 روزے رکھنا ہوں ، انہوں نے ایک اور بھی اہم بات کی کہ جو لوگ اتنے بیمار ہوں‌ کہ ڈاکٹرز بھی ان کو روک دیں لیکن وہ پھر بھی رکھے گا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ ہمارے ہاں جوشخص روزہ نہیں رکھ سکتا تو اسے قضا کرنے پڑیں گے ، اوراگرکوئی روزہ رکھ کرتوڑ دے تو پھر ا س پرکفارہ واجب ہے، انہوں نے کہا کہ جو لوگ روزہ بھی نہیں رکھ سکتے اورکفارہ بھی نہیں دے سکتے تو ان کے دوست احباب ان کی طرف سے کفارہ اداکردیں

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ جولوگ انجیکشن لگواتے ہیں ان کا روزہ نہیں ٹوٹتا ، خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، قئے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہاں البتہ جان بوجھ کرقئے لے تو پھرروزہ ٹوٹ جاتا ہے ،آنکھ اورکان میں دوائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

علامہ حسنین موسوی نے کہا کہ جواللہ اوراس کے رسول سے متعلق جھوٹ اورغلط بیانی کرتا ہے اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، ہاں جو لوگ طاقت کا انجیکشن اورڈرپ وغیرہ لگواتے ہیں ان کے روزے کے بارے میں علما کی رائے مختلف ہے ،حالت جنابت میں فجر کی آذان تک رہیں ان کا روزہ نہیں ہوگا

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ آذان کہنے سے پہلے کھا پی لیں ، اگراذان شروع ہوجائے تو کھانا پینا چھوڑ دیں جولوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا یہ غلط ان کا روزہ نہیں ہوگا ، ان کا یہ بھی کہنا کہ حالت جنابت میں رہنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے

علامہ حسنین موسوی نے کہا کہ مسواک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، علامہ حقانی نے کہا کہ پیسٹ کرنے سے روزہ مکروہ ہوگا ٹوٹے گا نہیں، آنکھ میں سرما لگانا ، پرفیوم لگانا سرپرتیل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

علامہ حسنین موسوی نے کہا کہ دین بہت آسان ہے اورتمام مکاتب فکر کی اکثرمعاملات پراتفاق ہے اورسوائے چند امورکےعلماکا اتفاق ہے، انہوں نے کہا کہ دین بہت آسان ہے

علامہ عبدالشکورحقانی نے کہا کہ جس شخص نے روزہ رکھنے کی نیت کی وہ اگرنہ اٹھ سکا تو اسے روزہ سمجھ کرپوراکرے وہ روزہ ہے

دین کو سمجھنے کے حوالے سے حقانی نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہمارے نصاب تعلیم میں قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے ، انہوں نے کہا جب قرآن کا علم نہیں ہوگا تویہ جہالت ہے

علامہ موسوی نے کہا کہ دوآدمی گھرمیں ہوں‌تو وہ باجماعت نماز اداکرسکتےہیں سفرمیں بھی یہ ہوسکتا ہے ، علامہ حقانی نے کہا کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے ، علامہ حقانی نے کہا کہ یہ بھی اگرگھرمیں ایک عورت اورایک مرد ہے تو پھر بھی جماعت ہوسکتی ہے ، اس میں مرد تھوڑا سا آگے ہوگا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.