عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام متحدہ

0
76

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو نظر انداز کیا جارہا ہے اس لیے اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ ترکیہ ذرائع ابلاغ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پراقوام متحدہ کی نئی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 سینٹی گریڈ کی حد سے نیچے رکھنے کا کوئی قابل اعتبار راستہ موجود نہیں اورموجودہ سرگرمیوں سے اس صدی میں عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.8 سینٹی گریڈ تک اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کی عالمی موسمیاتی کانفرنس کے بعد سے حکومتوں کے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں کمی کے منصوبے بڑی حد تک ناکافی رہے ہیں، نئی کوششوں سے 2030 تک کاربن کے عالمی اخراج میں کمی ایک فیصد سے بھی کم ہو گی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب؛ عالمی طبی جریدے ’لینسیٹ‘ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹس میں صحت کے 44 مسائل کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے، جن میں گرمی سے ہونے والی اموات، متعدی امراض اور بھوک شامل ہیں۔ ’لینسیٹ کاؤنٹ ڈاون‘ پروجیکٹ کی ریسرچ ڈائریکٹر اور بائیو کیمسٹ مرینا رومینیلو نے کہا کہ ان میں سے ہر ایک مرض سنگین ہو رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ لانگ مارچز کرنے والی حکمران جماعتیں قوم کو اپنی کارکردگی کیوں نہیں بتاتیں؟ سراج الحق
کراچی میں پولیس مقابلے میں ایس ایچ او زخمی، ڈاکو کی ہوئی موت
وزیراعظم کل چین جائیں گے،متعدد یاداشتوں اور معاہدات پر دستخط ہونے کا امکان
نماز جنازہ سے قبل؛ صدف نعیم کے لواحقین کو تھانہ بلوا کر دستخط کرائے گئے
رپورٹ کی شریک مصنف اور یونیورسٹی آف واشنگٹن میں انوائرمنٹل ہیلتھ کی پروفیسر کرسٹی ایبی نے کہا: ’یہ سب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نتائج ہیں۔‘ اس سال کی رپورٹس، جن میں ایک عالمی اور دوسری صرف امریکہ کے لیے ہے، میں ان خطرناک رجحانات کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں ’کوڈ ریڈ فار ہیلدھی فیوچر‘ نامی ایک رپورٹ کے مطابق خطرے سے دوچار (زائد العمر اور نوجوان) افراد گذشتہ سال زیادہ خطرناک درجہ حرارت کا شکار بنے۔ محققین نے شمار کیا کہ 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے 1986 سے 2005 کی اوسط کے مقابلے میں تین ارب زیادہ افراد انتہائی گرمی کا شکار تھے۔

Leave a reply