fbpx

اماراتی شہزادی کا بھارتی انتہا پسندوں پرشکنجہ کسنےکا فیصلہ،متعدد شکایتوں پردبئی کی پولیس کابھارتی انتہا پسندوں کےخلاف کاروائی کا آغاز

متحدہ عرب امارات کی شہزادی شیخہ ہندہ بنت فیصل نے بھارتی انتہا پسندوں پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یو اے ای کی شہزادی نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بھارتی انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کے خلاف بات کرتا نظر آئے تو فوراً ہمیں رپورٹ کرے ہم ا س کے خلاف یو اے ای میں فوراً کاروائی کریں گے جس کے نتیجے میں ملک سے بے دخلی ویزا کینسلیشن اور دبئی میں داخلے پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے –

یو اے ای کی شہزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ہندو انتہا پسندوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور متعدد شکایتوں کے بعد دبئی کی پولیس نے بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو موبلنچنگ ہو یا لو جہاد یا کورونا جہاد کے نام پر مسلم مخالف مہم چلانا ہو تو ان سب پر دنیا بھر میں آ وازیں اٹھنے لگی ہیں یہاں تک کہ بھارتی مسلمانوں پر جمعے کی نماز پر پابندی کی مہم ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے-

حال ہی میں دہلی کے نزدیک گرداو نامی علاقے میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو جمعے کی نماز ادا نہیں کرنے دی اور پولیس کی مداخلت کے بعد جب جمعے کی نماز ادا کی جانے لگی تو ہندو انتہا پسندوں نے شور مچا کر نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اس معاملے پر بھی یو اے ای کی شہزادی نے سخت نوٹس لے لیا ہے –

شہزادی ان دنوں ٹوئٹر اکاونٹ پر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف مسلسل آواز بلند کر رہی ہیں جبکہ بھارتی انتہا پسند جماعتوں کو شہزادی کی یہ حرکت ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور مذکورہ شہزادی کے ٹوئٹر اکاونٹ پر جا کر بی جے پی اور آر آر ایس کے انتہا پسند کارکنوں نے گھٹیا زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے-

لیکن یو اے ای کی شہزادی بھارتی انتہا پسندوں کے آگے ڈٹ چکی ہے ان کا کہنا ہے کہ جب تک یو اے ای کی سرزمین سے بھارتی انتہا پسندوں کا صفایا نہیں ہو گا وہ چین سے نہیں بیٹھنے والی یہ لوگ ہمارے ہاں روزی روٹی کمانے آتے ہیں اور ہمارے ہی خلاف زبان درازی کرتے ہیں –

گزشتہ سال نومبر میں شہزادی نے مسلم مخالف بھارتی اینکر سدھیر چوہدری کو یو اے ای میںانوائٹ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ سدھیر چوہدری جیسے مسلم مخالف بھارتی اینکروں کو یو اے ای میں نہ آنے دیا جائے شہزادی نے مذکورہ بھارتی اینکر کو دہشت گرد قرار دیا تھا –

شہزادی ہند بنت فیصل القاسمی نے اینکر اور چیف ایڈیٹر سدھیر چوہدری کو دبئی میں ایک تقریب میں مدعو کرنے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک دہشت گرد کو کیوں بلایا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اینکر سدھیر چوہدری بھارتی چینل ’’زی نیوز‘‘ پر بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف نہ صرف زہر اگلتا رہا ہے بلکہ اس نے مسلمانوں پر نماز کی پابندی کی مہم بھی چلا رکھی تھی کورونا کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے مذہب کے خلاف زہر یلا پروپیگنڈا کیا تھا اور اسی پروپیگنڈے کی وجہ سے آج بھارتی مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں-


شہزادی ہند نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ گوبر کھانے والے آدمی کو جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بکواس کرتا ہے اس امن پسند روادار ملک میں کیوں بلایا گیا؟


شہزادی ہند نے ایک اور پیغام میں لکھا تھا کہ سدھیر چوہدری کے شوز مکمل طور پر اسلامو فوبیا سے متعلق ہوتے ہیں جس میں بھارت کی 20 کروڑ مسلم آبادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے ہندو انتہا پسند صحافی کے زیادہ تر پرائم ٹائم شوز بھارت میں مسلمانوں کے خلاف براہ راست تشدد کا باعث بنتے ہیں۔


شہزادی ہند نے اپنے ٹوئٹ میں فنکنش کے منتظمین سے پوچھا تھا کہ آپ ہوتے کون ہیں ایک اسلام مخالف شخص کو میرے پرامن ملک میں دعوت دینے والے؟

جبکہ بھارتی اینکر سدھیر کی جانب سے یہ وضاحت دینے پر کہ یہ مسلم مخالف نہیں ہے شہزادی نے اس کے اس جواب میں ایک ویڈیو بھی شئیر کر ڈالی ہے جس میں سدھیر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کا مذہب اسلام نہ صرف بھارت کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان کا نماز پڑھنا بھی خطرہ بن چکا ہے اور اسے جہاد کے ساتھ بھی جوڑا ہے –

یاد رہے کہ سدھیر چوہدری کو 2012 میں ایک بھارتی صنعتکار سے 10 کروڑ روپے ہتھیانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ایک ماہ تک بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں گزارنا پڑا تھا۔

علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں شہزادی شیخہ ہند بنت فیصل القاسمی نے نسل پرست اور اسلام دشمن بھارتیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے انسانی حقوق کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے شہزادی نے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی سرکار اور انتہا پسند بھارتی ہندو نسل پرستی کے نظریے ہندوتوا کا پرچار کرتے ہیں۔

انہوں نے بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض بھارتی شہری سوشل ویب سائٹس پر اسلام اور مسلمانوں کیخلاف نفرت آمیز تحریر لکھنے میں ملوث ہیں اور عالمی برادری خاموش ہے ساتھ ہی انہوں نے مودی سرکار کی جانب سے لگائے گئے مقبوضہ کشمیر میں جبراً لاک ڈائون کا معاملہ بھی اٹھایا تھا-

بھارت میں اسلام مخالف رویوں پر ان دنوں پوری مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پھیل رہا ہے اور مسلم ممالک پر پریشر بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ بھارتی انتہا پسندوں کو ویزے دینا بند کریں اور ان سے اپنی سرزمین پاک کریں تاکہ بھارتی حکومت کو یہ پیغام پہنچ جائے کہ انہیں مسلم مخالف مہم کی بھاری قیمت انڈیا کو چکانی پڑ سکتی ہے-

بھارت کو جب تک مسلم دشمنی کی سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک یہ سلسلہ نہیں رکنے والا یو اے ای کی شہزادی نے انڈیا میں بڑھتے اسلاموفوبیا پر آواز اٹھا کر خاموش تالاب میں پتھر پھینک دیا ہح اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم دنیا خواب غفلت سے کب جاگتی ہے