fbpx

امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل  تحریر: یاسرشہزادتنولی

۔

طاقت کے نشے میں چور امریکہ بہادر جس نے دنیا میں ظلم بربریت کے وہ شرمناک کھیل کھیلے کے معصوم انسانیت نے سر شرم سے جھکا لئے ۔ پوری دنیا پر آقا کی صورت میں مسلط ہونے کی خواہش میں امریکہ سامراج انسانیت کی ہر اس حد سے گزر ا ہے کہ جہاں دنیا کی ہر پستی اور ذلالت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کبھی امریکہ بہادر نے ”ویت نام’ میں خون کی ہولی کھیلی تو کبھی ہیرو شیمااور ناگا ساکی  پر ایٹمی آگ برسا کر بے گناہ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ جاپان کی لاکھوں بے گناہ عوام کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی امریکی درندوں کی خونخوار آنکھیں مزید انسانوں کے خون کی پیاسی ہی رہیں۔ اور اسی تناظر مین عراق کے صدر صدام حسین کو بنیاد بنا کر اندھا دُھند عراق پر یلغار کر دی امریکہ کو مسلمانوں سے تو خاص کر خدا واسطے کا بیر ہے عراق میں امریکہ نے نہتی عوام بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر وحشی پن اور درندگی کی وہ انسانیت سوز تاریخ رقم کی جسے دیکھ کر لوگ چنگیزی دور کے مظالم بھی بھو ل گئے خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے کم وبیش 40ہزار فوجیوں نے یہ کہتے ہوئے استعفے دے دیئے ہیں کہ امریکہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر عراق میں ہمارے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو مروایا ہے۔ عراق کے مسلمان بالکل بے گناہ تھے اور ہم نے ناحق ان معصوم لوگوں کو خون بہایا ہے امریکی استعفیٰ دینے والے فوجیوںنے مزید کہا کہ ہمارا ضمیر ہمیں بری طرح بے چین رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے ہی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے ان معصوم عراقیوں کا کوئی قصور نہ تھا وہ ہم سے لڑنے نہیں آئے تھے بلکہ ہم خود ان سے لڑنے ان کے ملک گے تھے ہم فوجیوں کو یہ باور کرایا گیا تھا تم حق و سچ کی وہ جنگ لڑنے جا رہے ہو جس میں تمہاری اور تمہارے مذہب کی بقا ہے لیکن آج ہمیں اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہو ا ہے کہ یہ جنگ نہ ہی ہمارے مذہب کی تھی اور نہ ہی ہماری بقاء کی تھی بلکہ یہ لڑائی جارج بُش اور کلنٹن اپنے اقتدار کیلئے اور امریکی عوام کے سامنے ہیرو بننے کیلئے لڑ رہے تھے۔ اور یہی برسرا قتدار خون خوار ٹولہ اپنے اقتدار کے محل ان بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تعمیر کرتا رہا۔ اور ہر امریکی برسرِ اقتدار ٹولے نے بے گناہ انسانیت کے خون خرابے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ آج ہم اپنے ہی ضمیر کے مجرم ہیں ہمارا ضمیر ہم سے بار بار یہ سوال کر رہا ہے کہ لاکھوں نہتے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرکے تم نے کون سا کمال کیا ہے۔ ان معصوموں کے خون سے تم نے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے کبھی ایک ظالم اور کبھی دوسرے درندے کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امریکی فوجیوں نے حکومت سے ملنے والے ”گولڈ میڈل” اٹھا کر دور پھینک دیئے گولڈ میڈل پھینکتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے امریکی فوجی جوتے اٹھا اٹھا کر امریکہ کے منہ پر مار رہے ہوں استعفے دینے والے فوجیوں نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ہم عراقی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ہم ان بے گناہ مسلمانوں کے خون کا ہر قیمت پر ازالہ کریں گے جو ہمارے ہاتھوں ناحق مٹی کی خوراک بنے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے ، امریکہ ہر جگہ سے ہمیشہ ذلیل خوار ہو کے ہی بھاگا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کی ہمارے سامنے ہے ۔ بس میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکہ کے رہنے والے 40ہزار امریکی فوجی جب استعفے دے کر امریکہ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر سکتے ہیں توہم دنیا بھر کے مسلمان خدا اور خدا کے رسول کے نام پر یکجاء ہو کر مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مروڑ کر پھینکنے کی طاق کیوں نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام مسلامونں کو انفرادی فائدے کا پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو اپنا کر عصرِ حاضر کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک متفق اور مستحکم قوم بننا ہوگا۔ اور اس میں ہم سب کی بقاہے۔

https://twitter.com/YST_007?s=09

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!