امریکہ، فرانس کے بعد ایک اور ملک نے ایران کی بڑی فضائی کمپنی پر پابندی عائد کر دی، اہم خبر آ گئی

جرمنی کے شہر لونبرگ میں مقامی انتظامی عدالت نے ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے جرمنی کی فضاؤں میں سفر پر پابندی سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلے کی تائید کر دی ہے اور یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکے گی۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر جس پر پابندی لگائی گئی ہے یہ ایران کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ہے اور 1992 میں ایران کی پہلی نجی فضائی کمپنی کے طور پر اس کا قیام عمل میں‌ لایا گیا تھا. یہ وہ کمپنی ہے جس کے پاس ایران میں طیاروں‌کا سب سے بڑا بیڑا ہے. امریکہ نے دس سال قبل 2011 میں مذکورہ فضائی کمپنی ماہان ایئر پر پابندیاں عائد کیی تھیں اور یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ماہان ایئر نے ایرانی پاسداران انقلاب کی مالی مدد کے علاوہ دیگر صورتوں میں بھی معاونت فراہم کی تھی۔

امریکہ کی جانب سے پابندیوں‌ کے بعد دیگر مغربی ملکوں سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ ماہان ایئر پر پابندیاں‌ لگائیں. جس کے بعد پہلے فرانس نے پابندی لگائی تھی اور اب جرمنی کی طرف سے یہ اقدام سامنے آیا ہے. جرمنی میں کئے جانے والے عدالتی فیصلے کی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ پابندی کی وجوہات کا تعلق خارجہ اور سیکورٹی پالیسی سے ہے۔ جرمن وزارت خارجہ نے ماہان ایئر پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے عسکری ساز و سامان اور عسکریت پسندوں کو شام منتقل کیا ہے.

واضح‌ رہے کہ تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کئے جارہے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.