fbpx

امریکا کا افغانستان کے لئے 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان

امریکہ نےافغانستان کے لئے تقریباً 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کردیا-

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے کہا ہے کہ یہ امریکی امداد ایک کروڑ 84 لاکھ سے زائد متاثرہ افغانوں میں براہ راست تقسیم کی جائے گی ان متاثرہ افراد میں ہمسایہ ملکوں میں موجود افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ اس کام میں آزادانہ طور پر کام کرنے والی تنظیموں کی مدد حاصل کی جائے گی۔

اس اضافی امداد کے بعد سال 2021ء کے دوران امریکہ کی جانب سے افغانستان کواب تک مجموعی طور پر تقریباً 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دیئے جا چکے ہیں جو کسی ملک کی جانب سے دی جانے والی سب سے بڑی امداد ہےامداد سےعارضی پناہ گاہیں،روزگار کے وسائل کی فراہمی، صحت کی دیکھ بھال، سرد موسم سے تحفظ، خوراک کی ہنگامی امداد، پانی،طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اقوام متحدہ کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں بنیادی انسانی ضروریات کی شدید قلت مزید بڑھتی جا رہی ہے افغانستان کی اندازاً چار کروڑ آبادی کا نصف حصہ یعنی دو کروڑ 28 لاکھ افغان باشندوں کو نومبر سے خوراک کی شدید کمی درپیش ہو گی۔

افغان معیشت میں کیش انجیکٹ کیا جائے، انتونیو گوتریس کی عالمی برادری سے اپیل

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر اس سال کے آخر تک پانچ سال سے کم عمر کے 30 لاکھ 20 ہزار بچوں کو غذائیت کی شدید کمی کا سامنا ہو گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ یورپی یونین کمیشن نے حالیہ منعقد کی گئی ورچوئل کانفرنس میں افغانستان اور پڑوسی ممالک کیلئے ایک ارب یورو کے پیکج کا اعلان کیا سربراہ یورپی یونین کمیشن اروسلاوان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین افغان امدادی پیکج کیلئے مزید 7 سو ملین یورو جاری کرے گا یورپی امداد افغانستان میں انسانی، سماجی ومعاشی ضروریات پرخرچ ہو گی۔

افغانستان کو انسانی، سماجی و معاشی تباہی سے بچانے کیلئے ہرممکن کوشش کرنا ہوگی یورپی امداد کا کچھ حصہ افغان شہریوں کو پناہ دینے والے پڑوسی ممالک کو دیا جائے گا۔

اشرف غنی لاکھوں ڈالرز کے ساتھ فرار ہوئے، ثبوت دے سکتا ہوں سابق چیف سیکورٹی گارڈ…

اروسلا وان نے واضح کیا تھا کہ امدادی رقم طالبان کی عبوری حکومت کو نہیں دی جائے گی کیونکہ یورپی یونین نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی امداد وہاں کام کرنے والے بین الاقوامی اداراوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی طویل المیعاد امداد کیلئے طالبان کو یورپی یونین کی پانچ شرائط کو پورا کرنا ہوگا ہم طالبان سے روابط کے لیے پہلے کی اپنی شرائط واضح کر چکے ہیں جن میں انسانی حقوق کی پاسداری اولین شرط ہے۔

اروسلا وان نے کہا تھا کہ ہم طالبان کے اقدامات کی قیمت افغان عوام کو نہیں چکانے دیں گے ہم افغانستان میں انسانی بحران ٹالنے کے لیے سب کچھ کریں گے جو ہم کرسکتے ہیں۔ اور ہمیں جلدی کرنے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ میں طالبان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں سے کیے جانے والے اپنے وعدوں پر قائم رہیں انتونیو گوتریس نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے افغان خواتین اور لڑکیوں سے کیے جانے والے وعدے توڑ دیئے ہیں وعدے ٹوٹنے کا مطلب افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے خوابوں کا ٹوٹنا ہے –

انتونیو گوتریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ اس مسئلے پر آرام سے نہیں بیٹھے گا اقوام متحدہ کی طالبان سے روزانہ کی بنیادوں پر بات ہوتی ہے طالبان بین الاقوامی انسانی حقوق اور ہیومنٹیریئن قوانین کے مطابق بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

افغانستان کے دیگر ممالک میں اثاثے منجمد ہیں اور ترقیاتی امداد روک دی گئی ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان معیشت میں کیش انجیکٹ کیا جائے عالمی برادری سے اپیل کی کہ فوری طور پر ایکشن لے تاکہ سب کچھ تباہی سے بچ سکے-

انہوں نے کہا تھا کہ ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ افغان معیشت دوبارہ سانس لے سکے لیکن سب کچھ عالمی قوانین اور قواعد و ضوابط کو نظرانداز کیے بغیر ہونا چاہیے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی طرح طالبان یا حکمرانوں کو پیسہ دینے کا نہیں کہہ رہے ہیں۔

یورپی یونین کمیشن کا افغانستان کے لئے امدادی پیکج کا اعلان