fbpx

امریکہ کا خونی کھیل، مریم اور نوازشریف کا کردار تحریر: رانا عزیر

اس وقت افغانستان کی صورتحال فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکی ہے، وزیراعظم عمران خان کا ایک اور انٹرویو امریکی نشریاتی ادارے کو دیا گیا، جس میں عمران خان نے واضح کیا امریکہ کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ یہ جنگ ہار گیا ہے، اب امریکہ پاکستان کے خلاف ایک ایسا محاذ کھولنا جارہا ہے جو پاکستان کیلئے مشکل ہوگا ، وہ اصل پلان کیا ہے؟اور اسی ایجنڈے پر نوازشریف اور مریم نواز بھی کام کررہی ہے، بھارت بھی اپنے سلیپر سیل کیلئے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے۔
ایک طرف لندن میں نوازشریف پاکستان کو گالیاں دینے والوں کے ساتھ ملاقاتیں کررہے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازشیں اور سکیمیں کررہے ہیں، امریکہ کا اصل پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان کو توڑ کر آزادی کی تحریکوں کو جنم دے، وہ کیسے؟ امریکہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور وہ اس خانہ جنگی کو پاکستان منتقل کرنا چاہتا ہے، ایک پائپ لائن جو عراق سے شروع ہوتی ہے اور پھر پاکستانی ہمالیہ، کشمیر سے چین جاتی ہے جس سے تیل چائینہ جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی تک جائے گی، اور پاکستان کے ایک طرف مستقبل کی سپر پاور چین، ایک طرف بھارت، ایک طرف توانائی کا کوریڈور اور پاکستان اب پوری دنیا کیلئے بہت اہم ہوگیا، تو امریکہ براہِ راست پاکستان پر حملہ نہیں کرسکتا، تو امریکہ نے پلان کیا کہ وہ پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی کو ملا کر پاکستان کو توڑ دے، یہی کچھ مریم نواز آزاد کشمیر میں کررہی ہے کشمیر کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے اور اسے توڑنے کی سازش کررہی ہے، اور عمران خان نے آج امریکہ کو واضح کردیا ہے کہ ہم بھرپور جواب دیں گے اور اب برابری کی سطح پر بات ہوگی۔ یہ سازش نوازشریف گزشتہ برس سے دشمنوں کے ساتھ ملکر مختلف ممالک کے سفارتکاروں، اہم شخصیات اور غیر ملکی ایجنسیوں سے رابطے کرکے اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا گروہ اور جماعت تشکیل دی جائے جو پاکستان کو توڑنے کیلئے سرگرم رہے صرف جمہوریت کا راگ الاپ کر، معاملات سنگین ہورہے ہیں اور امریکہ اپنی کاروائیاں تیز ست تیز تر کرتا چلا جارہا ہے۔

twitter.com/RanaUzairSpeaks