fbpx

امریکی انخلا کے باوجود 15 لاکھ افغان شہریوں کی پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح

پاکستان ایشیا میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے کیونکہ 15 لاکھ افغان شہری اب بھی اس ملک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ امریکی افواج کی کابل سے عجلت میں راتوں رات واپسی کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک خطے میں پناہ گزینوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے دوران ایک لاکھ 38 ہزار 400 افراد کا اضافہ ہوا جس کے ساتھ اب مہاجرین کی یہ تعداد عالمی مہاجرین کی 42 لاکھ آبادی کا 19 فیصد ہے.

صحافی امین احمد کی تحقیق کے مطابق: دسمبر 2021 تک ڈاکومینٹیشن اور انفارمیشن ویری فیکشن ایکسرسائز (ڈرائیو) کے مطابق پاکستان میں 12 لاکھ 52 ہزار 800 رجسٹرڈ افغان شہری تھے جن کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت (پی او آر) کارڈز تھے۔

رجسٹرڈ خاندانوں کے مزید ایک لاکھ 29 ہزار 700 غیر رجسٹرڈ ارکان تصدیق کے منتظر ہیں۔

سرکاری اندازوں کے مطابق اگست 2021 سے اب تک تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار افغان شہری پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش 9 لاکھ 18 ہزار 900 مہاجرین کے ساتھ دوسرا بڑا میزبان ملک ہے جب کہ اس کے بعد 7 لاکھ 98 ہزار 300 افغان مہاجرین کے ساتھ ایران تیسرا بڑا میزبان ملک ہے۔

چین میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی ہیں، جن میں سے 3 لاکھ سے زیادہ ویت نامی شہری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسفک ریجن میں 95 فیصد مہاجرین ترقی پذیر (کم اور درمیانی آمدنی والے) ممالک میں مقیم ہیں جب کہ زیادہ آمدنی والے ممالک صرف 5 فیصد بے گھر افراد کی میزبانی کرتے ہیں۔
میزبان ملک پر اثرات

پناہ گزینوں کی آبادی کی تعداد کا میزبان ملک کے ساتھ موازنہ کرنے سے اس کے اثرات اور پڑھنے والے بوجھ کا اندازہ ہوتا ہے۔

افغان مہاجرین کی آبادی خطے میں سب سے بڑی اور عالمی سطح پر تیسری سب سے بڑی تعداد ہے، مجموعی طور پر 27 لاکھ مہاجرین کی میزبانی 98 ممالک کر رہے ہیں۔

میانمار ایشیا پیسیفک میں پناہ گزینوں کا باعث بننے والا دوسرا اور دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔2021 میں، پناہ گزینوں کی تعداد 7 فیصد (اضافے کے ساتھ 12 لاکھ تک پہنچ گئی جن میں سے 3 چوتھائی سے زیادہ بنگلہ دیش کی میزبانی میں ہے۔

مسلح تصادم یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اپنے ہی ملکوں کے اندر بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد میں 2021 میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

2021(آئی ڈی پیز) کے آخر تک، خطے میں 44 لاکھ ندرونی طور پر بے گھر افراد تھے، جو 2020 کے آخر کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔

خطے میں، سات ممالک نے تنازعات کی وجہ سے آئی ڈی پیز کی اطلاع دی۔ 2021 کے آخر تک سب سے زیادہ تنازعات کی وجہ سے آئی ڈی پیز والے ممالک افغانستان (35 لاکھ)، میانمار 7 لاکھ 70 ہزار) اور فلپائن (ایک لاکھ 5 ہزار 200) تھے۔