fbpx

مودی یاد رکھے، امریکہ کی طرح بھارت کو بھی جلد کشمیر سے نکلنا ہوگا رحمان ملک

سابق وزیر داخلہ اور انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر)کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ مودی کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ کی طرح بھارت کو بھی جلد کشمیر سے نکلنا ہوگا-

باغی ٹی وی : رحمان ملک نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی نہ صرف کشمیری آزادی پسندوں بلکہ دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں کے لیے ایک آئیکون تھے،گیلانی مرحوم ساری زندگی ہندوستانی جبر کے خلاف سیسہ پلائی کی دیوار بن کر کھڑے رہے اور بہادری سے ہندوستان کے ہر ظلم کا مقابلہ کیا، آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق ہے جو انہیں جلد ملے گا۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر)کے زیراہتمام ممتاز کشمیری رہنما اور کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سابق سربراہ سید علی شاہ گیلانیؒ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کی صدارت سینیٹر رحمان ملک نے کی جبکہ شرکاء میں سینیٹر مشاہد حسین سید ، سینیٹر ثنا جمالی ، چوہدری افتخار احمد ، سینئر صحافیوں ، اور پیپلز پارٹی کے کارکن شامل تھے۔

ریفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور حضور اکرم ﷺ کی نعت سے ہوا ، اس کے بعد سید علی شاہ گیلانی کی روح کے لیے دعا کی گئی اور ان کے اہل خانہ اور پورے کشمیریوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سید علی گیلانی نے حق خود ارادیت کے لیے کشمیر کی تحریک کی قیادت کی اور پورے زندگی کشمیر کو پاکستان کیساتھ الحاق کرنے کے حامی رہے، پوری پاکستانی قوم سید علی گیلانی کے انتقال پر صدمے میں ہے اور اُنہیں بھارتی جبر کے خلاف اُن کی بہادری اور جدوجہد پر سلام پیش کرتے ہیں –

انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی نے ہمیشہ اپنے اصولوں پر عمل کیا اور بھارتی غیر قانونی قبضے سے آزادی کی جنگ لڑی،بھارت کے بزدل اور ظالم حکمران سید علی گیلانی کی میت سے بھی خوفزدہ تھے لہذا انہوں نے اسے رات کے اندھیرے میں دفن کردیا اور جبکہ ان کا پورا خاندان جیل میں تھا، یہ ظلم کی انتہا ہے کہ سید علی گیلانی کے خاندان کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی مگر بھارت یاد رکھے کہ ظلم کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا ۔

رحمان ملک نے مزید کہا کہ مودی نے پوری وادی کشمیر کو جیل اور ٹارچر سیل بنا دیا ہے لیکن اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں،آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ 1947ء سے ہماری حکومتوں نے کشمیر کے لیے کیا کیا ہے کیونکہ ہم پہلے دن سے ہی بھارت کی پچ پر کھیل رہے ہیں، حکومت کو فوری طور پر بھارتی افواج اور وزیر اعظم نریندر مودی کے انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف جانا چاہیے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کے پاکستان میں الحاق کے سب سے بڑے وکیل تھے اور انہوں نے ہمیشہ یہ نعرہ بلند کیا،سید علی شاہ گیلانی کے لیے کشمیر کی آزادی کا ہدف اس کا پاکستان سے الحاق تھا، سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی حق خود ارادیت کے لیے وقف کی تھی اور اس جدوجہد میں انہوں نے ہر قسم کے مظالم برداشت کیے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کو طاقت کے ذریعے دبانا کبھی ممکن نہیں ، وہ وقت دور نہیں جب کشمیر بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزاد ہو جائے گا، جب پاکستان نے 1998ء میں اپنے ایٹم بم کا تجربہ کیا تو سید علی گیلانی نے اسے کھلے عام منایا اور خوشی کا اظہار کیا۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ مرحوم گیلانی صاحب نہایت ہی بہادر آدمی تھے اور ان کی بھانجی آسیہ اندرابی دس سال سے بھارتی جیل میں ہے اور اس کا پورا خاندان آزادی کے کئے جدوجہد کر رہا ہے۔

سینیٹر ثنا جمالی نے کہا کہ سید علی گیلانی نہ صرف کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے ہیرو تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کو یہ نعرہ دیا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے سید علی گیلانی کا نعرہ کشمیر کی آزادی کی صبح تک گونجتا رہے گا جو زیادہ دور نہیں ہے۔

سینئر صحافی طاہر خلیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری افتخار احمد نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور سید علی گیلانی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!