fbpx

امریکا نےافغانستان میں ستیاناس کردیا وہ جس مقصد کیلئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا عمران خان

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں ستیاناس کردیا، امریکا جس مقصد کے لئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔

باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات ہیں، سیاسی تصفیہ ہی افغانستان کے مسئلے کا حل ہے، اگر سیاسی تصفیہ نہیں ہوتا تو افغانستان میں سول وار ہوسکتی ہے اور ایسا ہوتا ہے تو بھیانک صورتحال ہوگی۔

انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان کی معیشت مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اشرف غنی کو انتخابات میں تاخیر کرنی چاہیے تھی افغانستان کا پاکستان پر جہادی بھیجنے کا الزام احمقانہ ہے، افغانستان جہادی بھیجنے کے ثبوت کیوں نہیں فراہم کرتا۔ الزام لگایا گیا کہ ہم نے طالبان کو محفوظ ٹھکانے دیئے ثبوت کہاں ہیں، نائن الیون کے بعد امریکا کا ساتھ دیا تو ملک بھر میں خودکش حملے ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امریکا اور طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں، امریکا اور طالبان کو ایک میز پر لانے کے لیے ہم نے کردار ادا کیا افغان عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قسم کی حکومت چاہتے ہیں، سب نے دیکھا افغان مسئلے کا فوجی حل ناکام ہوا جب کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ جب افغانستان میں 150 ہزار نیٹو فوجی تھے وہ وقت تھا کہ کوئی سیاسی حل نکالا جاتا، جب افغانستان سے انخلا کی تاریخ دی گئی تو طالبان نے سوچا کہ وہ جنگ جیت گئے، اب مشکل ہے کہ طالبان کو کسی سیاسی حل کی طرف لایا جائے، طالبان سمجھتے ہیں وہ جیت چکے امریکا نے افغانستان میں ستیاناس کردیا، امریکا جس مقصد کے لئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا القاعدہ افغانستان میں تھی، جنگجو طالبان پاکستان میں نہیں تھے، نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا۔