fbpx

امریکا نے چین کو عالمی نظام کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیدیا

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ نے چین کو عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔

باغی ٹی وی : جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اپنے ایک خطاب میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ واشنگٹن چین کو طویل المدتی بنیادوں پر روس سے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو چین کو روکنا اور اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا:روس اورچین کے خلاف ڈٹ گئے

بلنکن نے خبردار کیا کہ چین کے پاس بین الاقوامی نظام کےایک مختلف تصورکو آگے بڑھانے کے ارادے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تکنیکی، فوجی اور سفارتی ذرائع بھی موجود ہیں امریکہ روس کو عالمی نظام کےلیےایک فوری خطرے کےطورپر دیکھتا ہے تاہم چین طویل المدتی بنیادوں پر بین الاقوامی سلامتی کو متاثر کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ تقریر ایسے وقت پر کی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے سے وطن واپس پہنچے ہیں ان دونوں ممالک میں بائیڈن کے مذاکرات کا مر کزی موضوع بھی بین الاقوامی سطح پر چینی غلبہ تھا۔

تائیوان پر چینی جارحیت ہوئی تو امریکا طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا، جوبائیڈن

قبل ازیں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل انڈو پیسیفک اتحاد کے سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، یوکرین پر روس کے حملے اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تبادلہ خیال اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا جاپان کی میزبانی میں 4 ممالک پر مشتمل انڈو پیسیفک اتحاد کے رکن ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں امریکا کے صدر جوبائیڈن، جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے نومنتخب وزیراعظم انتھونی البانی نے شرکت کی تھی-

۔ اجلاس میں روس کی یوکرین اور چین کی تائیوان پر جارحیت سے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا اجلاس میں رکن ممالک نے امریکی صدر کی اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ روس کے یوکرین پر حملے سے پیدا ہونے والے تنازع کے خاتمے تک انڈو پیسیفک کے اہداف حاصل نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح چین کے تائیوان اور ہانگ کانگ میں مداخلت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا-

امریکا پاکستان کو مستحکم اور مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے،نیڈ پرائس