fbpx

امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد نسل کشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے میانمار کی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ہولوکاسٹ یعنی یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کے بعد یہ آٹھویں مرتبہ ہے کہ امریکہ نے کسی جگہ نسل کشی کو تسلیم کیا ہے۔

2017 میں روہنگائی مسلمانوں کیخلاف ملک گیر منظم مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین کی عصمت دری، بچوں اور بڑوں کا قتل اور گھروں کا جلاؤ گھیراؤ شامل تھا جس کے بعد سے 700,000 سے زائد روہنگیائی مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے بدھ مت اکثریتی ملک سے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس سے قبل میانمار کی حکومت و فوج اور بدھ مت کے متعصب راہبوں کو متعدد عالمی رپورٹس میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کے ساتھ کیے گئے شرمناک سلوک کا مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔