امریکہ سے امداد نہیں برابری کی سطح‌ پر تعلقات چاہتے ہیں، اب ڈومور والی صورتحال نہیں ہے، عمران خان

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ سے امداد حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں بلکہ باہمی اعتماد، برابری اور دوستی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، پہلے پاکستان امریکہ سے امداد چاہتا تھا اور امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا کرتا تھا لیکن اب ایسی صورتحال نہیں ہے، اپنے دورہ امریکہ کی وجہ سے میں اس لیے خوش ہوں کہ ہمارے تعلقات باہمی نوعیت کے ہوگئے ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی انسٹی چیوٹ آف پیس میں خطاب اور سوال و جواب کی نشست کے دوران انہوں نے کہاکہ انہیں اس بات سے نفرت ہے کہ کسی سے امداد مانگی جائے کیونکہ ماضی میں امریکی امداد پاکستان کیلئے سب سے بڑی لعنت تھی، یہ بہت ہی شرمناک ہے کیونکہ کوئی بھی ملک خود داری کی بنا پر اوپر اٹھتا ہے، کوئی ملک امداد اور بھیک سے آگے نہیں جاسکتا، انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کا بڑا مسئلہ غربت ہے ہم تجارت بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں، ہماری حکومت بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں رکاوٹ ہے جب بھی ہم سنجیدگی سے بات چیت کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو بدقسمتی سے کشمیر میں کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا ہے، بھارت بات چیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے، وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ انہیں اس وقت اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اسامہ بن لادن کو امریکہ نے پاکستان میں گھس کر مارا۔، طور اتحادی ہر پاکستانی کیلئے یہ شرم کا مقام تھا کہ اس کا اتحادی اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے، ہم دوبارہ ایسی صورتحال نہیں چاہتے ، ہم چاہتے ہیں کہ برابری کی سطح پر باوقار تعلقات ہوں،

وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ نائن الیون میں کوئی پاکستان ملوث نہیں تھا ،دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے 70ہزار جانوں کی قربانی دی ، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، پہلے بھی کہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن اس وقت لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی اب لوگوں کو آئیڈیا ہوا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت میں ہے، انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن کے لیے یہ بہترین وقت ہے ،یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی حکومت، فوج اور امریکی حکام ایک پیج پر ہیں ، افغان طالبان اور امریکا کےساتھ مذاکرات کررہےہیں، بہت جلد امن معاہدہ کاامکان ہے یہ کام آسان نہیں تاہم سب کو اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا،

انہوں نے کہاکہ میں امریکی تھنک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یہاں مدعو کیا۔ ملک کے حالات بدلنے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ہمسایوں کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہم امن چاہتے ہیں۔ بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے انڈین وزیراعظم کو کہا ہے کہ اگر آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ غربت کو ختم کرنے کے لیے ہمیں مل کر چلنا ہو گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.