ورلڈ ہیڈر ایڈ

امریکی محکمہ خارجہ نے سالانہ رپورٹ میں‌ بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کی دہشت گردی کا پول کھول دیا

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے مذہبی آزادی کے حوالہ سے سالانہ رپورٹ‌ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں 2018ء میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر گائے کی تجارت یا اس کو ذبح کرنے کی افواہوں پر حملوں کاسلسلہ جاری رہا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کےمطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں‌ بھارتی حکومت کی جانب سے ہندوانتہاپسندوں‌ کو تحفظ فراہم کئے جانے کا اعتراف کیا گیا ہے. رپورٹ‌ میں‌ واضح طو رپر لکھا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں‌ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں‌ کرتے ہیں او ربی جے کی مودی حکومت ان کی سرپرستی کرتی اور تحفظ فراہم کرتی ہے.

رپورٹ کے مطابق صرف نومبر 2018 میں اس طرح کے 18حملے کئے گئے جن میں آٹھ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں جہاں‌ بھارت کے مختلف شہروں و علاقوں میں‌ نہتے مسلمانوں کی قتل و غارت گری، مسلم کش فسادات بڑھانے اور لوٹ مار کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہیں مقبوضہ کشمیر میں معصوم آصفہ بانو سے زیادتی اور قتل کے سانحہ سے متعلق بھی حقائق بیان کئے گئے ہیں .

واضح رہے کہ بھارت میں جب سے نریندر مودی کی حکومت دوبارہ آئی ہے کشمیر سمیت بھارت کے مختلف شہروں و علاقوں میں‌ قتل و غارت گری بہت بڑھ گئی ہے. مودی کے دوبارہ اقتدار سنھالنے کے بعد سے متعدد مسلمان شہید کئے جاچکے ہیں جبکہ کئی مسلمانوں انتہاپسندوں کے حملوں‌ میں زخمی ہوئے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.