امریکی پابندیاں‌ ایران کیخلاف اقتصادی دہشت گردی ہے، جنگ اور بات چیت آپس میں‌ جوڑ نہیں‌ رکھتیں. ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکی پابندیاں درحقیقت ایران کے اخلاف اقتصادی دہشت گردی ہے، جس سے بے قصور شہری نشانہ بنے ہیں۔ جنگ اور بات چیت خواہ شرائط کے ساتھ ہوں یا ان کے بغیر، یہ آپس میں جوڑ نہیں کھاتیں۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان کے بعد دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے پیشگی شرائط کے بغیر ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ پہلے تہران “ایک نارمل ریاست” کی طرح پیش آئے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہاکہ امریکی پابندیاں‌ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ ہیں. اگرچہ انسانی ضروریات مثلا خوراک، دوائیں، زرعی اور طبی آلات و مشینریز ان سے مشتثنی ہیں تاہم اس کے باوجود تہران کا کہنا ہے کہ پابندیوں نے شہریوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں‌ ایران اور امریکہ کے مابین سخت کشیدگی کا ماحول ہے اور دونوں‌اطراف سے جارحانہ بیان بازی کی جارہی ہے. گزشتہ سال نومبر میں‌ امریکی پابندیوں کے دوسرے دور میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اعلان کے مطابق واشنگٹن نے انسانی ضروریات مثلا خوراک، دوائیں، زرعی آلات اور طبی مشینریز کو مستثنی قرار دیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے 3 نومبر 2018 کو ایران کے خلاف امریکی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا تھا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.