fbpx

جو مسجدیں گراتی ہے وہ میری حکومت نہیں،ڈاکٹر عامر لیاقت اپنے ہی لیڈر پر برس پڑے

ٹی وی میزبان، اسکالر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اپنے ہی لیڈر پر برس پڑے-

باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ وزیراعظم عمران خا ن اور ریاست مدینہ پر بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں-


ویڈیو میں ڈاکٹر عامر لیاقت کہتے ہیں کہ میں الفاظ کا بہت نپا تلا آدمی ہوں میرے لئے یہ لفظ بہت اہم ہے مدینہ،انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں مسجد مدینہ گرا رہے ہیں-

پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

ویڈیو میں کسی نے سوال کیا کہ حکومت تو آپ کی ہے آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ جس پر رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جو مسجدیں گراتی ہے وہ میری حکومت نہیں ہے –

ڈاکٹر عامر لیاقت سے سوال کیا گیا کہ اس حوالے خان صاحب نے ابھی تک تو کوئی ایکشن نہیں لیا خان صاحب کو شرم نہیں آئی کہ وہ مسجد کے‌خوالے سے کوئی بات کریں؟ جس پر عامر لیاقت نے مزاحیہ انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو شرم ہوتی تو آتی ناں-


ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین کی جانب سے عامر لیاقت پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ قبضے کی زمین پر مسجد بنائی گئی ہے اس کا جھگڑا ہے ناجائز زمین پر مسجد بنانا کہاں کا اسلام ہے-


دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عامر لیاقت نے صفائی پیش کی کہا کہ میرا خان صاحب سے رشتہ ایسا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا جو بھی میری بات آپ کو بُری لگی ہے یقیناً وہ بُری لگنی بھی چاہیئے لیکن بات کا تناظر چھپانا سب سے بُری بات ہے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ شرم آتی ہے تو آتا ہے اور اقوام متحدہ میں آتا ہے پھر آ کر وہاں خطاب کرتا ہے رسول کی بات کرتا ہے میری اس ویڈیو کودرمیان میں سے کاٹ کر وائرل ویڈیو میں اگلا حصہ نہیں دکھایا گیا لیکن اس کے باوجود میں سب پی ٹی آئی رہنماؤں سے معذرت خواہ ہوں-

جسٹس عائشہ ملک کی تقرری، پاکستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان


عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں خان صاحب سے بھی معافی مانگتا ہوں اور ان کے پاس جا کر بھی معافی مانگوں گا ان کا عامر ایسا نہیں ہے ان کا عامر انہیں بہت چاہتا ہے دل سے محبت کرتا ہے-

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جناب عمران خان جو میرے پارٹی چیئرمین لیڈر اور رہبر کے ساتھ ساتھ میرے دوست بھی ہیں انہیں یقیناً میرے الفاظ سے ٹھیس پہنچی ہے میں ان سے دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں اور پی ٹی آئی کے تمام ساتھیوں سے بھی ان کے کارکن بھائی کی حیثیت سے معافی کا طلب گار ہوں-


اس سے قبل اپنے ٹوئٹ میں عامر لیاقت نے کہا کہ رات کے اس پہر ناسازی طبع کے باوجود اپنے حلقے کے اہل دیو بند کے ساتھ سینہ سپر کھڑا ہوں، سب کا تعلق مولانا فضل الرحمن صاحب سے ہے لیکن میرا تعلق اس رحمن سے ہے جس نے مدینے والے کو بھی تخلیق کیا ، الرحمن، علم القران، خلق الانسان، علمہ البیان، ہم سب ساتھ ہیں مدینہ مسجد نہیں گرنے دیں گے-

مودی کو اگر اسلام آباد میں آنے پر مسئلہ ہے تو سارک کانفرس میں ورچوئل شرکت کر لیں، شاہ محمود قریشی


رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ شکر گذار ہوں مولانا فضل الرحمن صاحب کے کارکنان اورعلمائے دیو بند کا جنہوں نے میری بات توجہ سے سنی اور ہم سب نے این ے 245 کی فلاح اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جناب سومرو بھائی اور جناب سینیٹرعبدالغفور حیدری صاحب کی موجودگی میں مشترکہ پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے-

واضح رہے کہ اس سے قبل ماضی میں عامر لیاقت حسین کراچی کے مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں جب کہ انہوں نے کراچی کے مسائل پر مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن وزیراعظم سے ملاقات کے بعد انہوں نے استعفے کا فیصلہ واپس لیا تھا-

جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیاعامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مستعفی ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم انہوں نےاستعفیٰ دینے کی وجہ نہیں بتائی تھی عامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘قومی اسمبلی سے استعفیٰ ارسال کردیا ہے، اللہ تعالی عمران خان اور پی ٹی آئی کا حامی و نا صر ہو ۔ اللہ حافظ-

جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

ڈاکٹر عامر لیاقت آئے سن اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں جبکہ اپنے بیانات کی وجہ سے انہیں صارفین کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے گزشتہ دنوں بھی انہیں اپنی ’تشویش ناک‘ صحت سے متعلق ٹوئٹ کرنے کے بعد لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عامر لیاقت حسین نے 30 نومبر کی شب مختصر ٹوئٹ کی تھی کہ ’انہیں تشویش ناک حالت میں کراچی کے علاقے ڈیفینس میں موجود نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے‘ان کے اکاؤنٹ پر کی گئی ٹوئٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی صحت سے متعلق ٹوئٹ کسی دوسرے شخص نے لکھی۔

جہاں لوگوں نے ان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور لوگوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں، وہیں متعدد افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ڈراما قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نامناسب جملوں کا استعمال بھی کیا تھا درجنوں افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ جب وہ تشویش ناک حالت میں ہیں تو ان کے اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کس نے کیا؟ ساتھ ہی کچھ افراد نے انہیں اداکار قرار دیا تھا جبکہ کچھ صارفین نے تو انہیں چھوٹا نواز شریف اور چھوٹا لاطاف حسین بھی کہا تھا-

جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!