کشمیری صدر کا اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی حکومت کو خط کا خیرمقدم

اسلام آباد آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے پانچ انسانی حقوق کے ماہرین کے طرف سے بھارتی حکومت کے نام خط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خط میں جن انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر کیا گیا ہے صورتحال اس سے کئی زیادہ سنگین ہے۔

اقوام متحدہ کے اقلیتوں کے امور، اظہار رائے کے حقوق کے تحفظ، پر امن اجتماع کے حق، نسل پرستی و نسلی امتیاز اور مذہبی آزاد ی کے حوالے سے کام کرنے والے پانچ ریپوریٹر ز نے بھارتی حکومت کے نام اپنے خط میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی سے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی تک اپنی بات محدود رکھی ہے جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ بھارت کی مودی حکومت جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے وجود کے خلاف سازشوں کے طعنے بانے بننے میں مصروف ہے اور وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اسے مکمل طور پر ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں رونما ہونے والے واقعات کو درست انداز میں رپورٹ کرنے والے صحافیوں کے خلاف بھارتی حکومت کی تازہ ترین پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیم جرنلسٹ وید آؤٹ باڈرز اور دوسرے اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں اور صحافتی اداروں پر ناروا پابندیوں اور صحافیوں کے جان و مال کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

صدر آزاد کشمیر نے بھارتی حکومت کی طرف سے صحافیوں کی آزادانہ رپوٹنگ پر تازہ ترین پابندیوں کو انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حق پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے صحافی بھارتی حکومت کہ ان غیر قانونی اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ اب صورتحال تو یہ ہو گی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کے دل بھی ان مظالم سے دھل گے ہیں اور ان میں سے کچھ نے ان مظالم کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال وہ خاتون پولیس آفیسر ہے جس نے یہ کہہ کر کہ یہ میرا کشمیر ہے اور میں یہاں کے باسیوں کے خلاف ظالم و ستم کا حصہ نہیں بن سکتی۔ خاتون پولیس آفیسر کے اس جرات اظہار کے بعد اسے اپنے عہدے سر برطرف کر دیا گیا۔

تبصرے (0)
تبصرہ کریں