سندھ کے جوڑے کی پسند کی شادی ، جان کو خطرہ ، تخفظ کی اپیل

پسند کی شادی کرنے والے سندھی جوڑے کی پریس کانفرنس ۔زندگی کو خطرہ ہے مار دیے جائینگے۔وزیر اعلی سندھ اور وزیراعظم پاکستان تحفظ فراہم کریں۔جوڑے کی ا پیل

سندھ کے ضلع دادو ، تحصیل جوئی گاہ کے تھانہ جوہی گاہ کی حدود طیب چنا کے رہائشی محمد امین اور منیراں بی بی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ ماہ قبل انہوں نے سندھ سے فرار ہوکر مظفر گڑھ کی عدالت میں نکاح کیا ۔ منیراں بی بی کے اہلخانہ کے دس افراد نے محمد امین کے گھر دھاوا بول دیا ۔

دھاوا بولنے والے دس افراد نے محمد امین کے دو بھائیوں کو زخمی کردیا اور محمد امین کی والدہ اور بھابھی کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے ۔اور دھمکی دی کہ جب تک ان کی لڑکی منیراں بی بی کو واپس نہیں کیا جاتا محمد امین کی والدہ اور بھابھی کو وہ نہیں چھوڑیں گے۔جس پر مقامی جاگیرداروں نے فیصلہ کیا کہ محمد امین اپنے ساتھ پسند کی شادی کرنے والی منیران بی بی کو واپس کر دے تو اس کی بھابھی اور والدہ کو وہ واپس دلوا دیں گے ۔محمد امین نے کہا کہ وہ مجبور ہوکر اپنی والدہ اور بھابھی کو بازیاب کروانے کے لیے اپنی بیوی کو واپس کرنے جا رہا ہے۔جبکہ منیراں بی بی نے کہا کہ اگر اسے واپس کیا گیا تو اس کی جان کو اور اس کے شوہر کی جان کو خطرہ ہے اور خدشہ ہے کہ انھیں ایک ساتھ ہی قتل کر دیا جائے گا ۔

پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے وزیر اعلی سندھ، آئی جی سندھ، اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی زندگیوں کا تحفظ کیا جائے اور اس کی مغوی والدہ اور بھابھی کو بازیاب کرایا جائے

مجیب الرحمان شامی باغی ٹی وی مظفرگڑھ

تبصرے (0)
تبصرہ کریں