fbpx

عراقی حکومت نے پھر امریکا کو دیا واضح‌ پیغام

عراقی حکومت نے پھر امریکا کو دیا واضح‌ پیغام
باغی ٹی وی : عراق اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجگ تعلقات استوار ہوئے ہیں . اس بارے عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی واع نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے بغداد واشنگٹن کے درمیان اسٹرٹییجک مذاکرات ختم ہوئے ہیں جس کے مطابق امریکی فوجیں عراق سے نکل جائیں گی.

عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اسٹریٹیجک مذاکرات میں سیکورٹی ، طبی اور اقتصادی چیلنجوں کے بارے میں گفتگو ہوئی اور بغداد و واشنگٹن نے اسٹریٹیجک معاہدے کی پابندی کے ضرورت پر تاکید کی ۔

2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور صدام حسین کو عہدے سے ہٹادیا۔ 2005 میں عراقی آئین اور انتخابات ہوئے۔ بالآخر ، ایران کے حامی مضبوط نوری المالکی اقتدار میں آئے ، جسے اوباما انتظامیہ کے اقتدار کے دوران امریکی حمایت حاصل تھی۔

امریکہ نے سن 2011 میں عراق چھوڑ دیا تھا ، لیکن یہ ملک پھر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا ، کیونکہ داعش نے 2014 اور 2015 کے اوائل میں بغداد کو تہس نہس کرنے کی دھمکی دی تھی اور عرق کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ تقریبا 200،000 عراقیوں کو تربیت دی اور جنگ میں جھونک دیا ، اور واشنگٹن نے 60 ممالک کا داعش کے خلاف اتحاد مشترکہ طور پر بنایا تھا اور اس کی قیادت کی تھی . داعش کو شکست دینے کے بعد امریکا میں پھر عراقی سول حکومت قائم ہوئی

امریکا کو پھر سے عراق میں مداخلت کرنا پڑی ، جس کے بعد عراق میں کئی ایک حکومتیں بدلیں اس کے باوجود سیاسی استحکام نہیں آیا . امریکانے اب پھر عراقی حکومت کے ساتھ ایک تزویراتی معاہدہ کیا ہے .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.