امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کردہ قرارداد ویٹو کر دی

0
111

امریکہ نے جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریش اور عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔امریکی سفیر رابرٹ وڈ نے کہا کہ یہ قرارداد ’حقیقت سے دور تھی اور اس سے زمین پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی تھی۔‘رابرٹ وڈ نے کہا کہ ’اس قرارداد میں اب بھی غیر مشروط فائر بندی کا مطالبہ شامل ہے جو حماس کو سات اکتوبر جیسی کارروائیوں کے قابل بنا دے گا۔‘ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ برطانیہ غیر حاضر رہا۔امریکا کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ حماس کو اس قابل بنا دے گا جو اس نے 7 اکتوبر کو کیا تھا۔یو اے ای نے قراردار ویٹو کیے جانے پر اظہار مایوسی کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل سمجھتےہیں کہ جنگ بندی سے صرف حماس کو فائدہ ہوگا، امریکا عارضی جنگ بندی کا حامی ہے تاکہ وقفے کے دوران امداد پہنچائی جاسکے۔
عالمی ادارے کے سربراہ گوتیریش نے غزہ میں 17 ہزار 487 سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

Leave a reply