fbpx

سڑک حادثے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں ایک سڑک حادثے میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع میںکنگن کے علاقے سنبل بالا گنڈ میں بھارتی فوج کے قافلے کی ایک گاڑی الٹ گئی جسکے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دریں اثنا، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے درد پورہ علاقے میں ایک کار سڑک سے پھسل کر کھائی میںجا گری جسکی وجہ سے ایک 55 سالہ شخص کی موت ہو گئی اور دو دیگر افراد اس وقت زخمی ہو گئے۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طورپر نظر بندرہنما نعیم احمد خان نے نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے کشمیریوں کے خلاف سیاسی اور ثقافتی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسل پرست حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے حریت کانفرنس کی صفوںمیںاتحادو اتفاق ناگزیر ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نعیم احمد خان نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کہا کہ بی جے پی کی کشمیر کے بارے میں دشمنانہ پالیسی اس کے نسلی تعصب، اسلامو فوبیا اور بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے جنوں کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ باجماعت نماز کے انعقاد پر پابندی اور لوگوں کو مساجد میں شب قدر کی ادائیگی سے روکنا بی جے پی کے تعصب اور اسلام کے بارے میں امتیازی سلوک کا واضح مظہر ہے۔

انہوں نے ایسی کارروائیوں کو کشمیری مسلمانوں کے دینی معاملات کی خلاف ورزی قرار دیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ عبادت گاہوں کو بند کرنے اور عبادت گزاروں کو مذہبی اجتماعات میں شرکت سے روکنے کی اقدامات اسی پالیسی کے مترادف ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کے خلاف اپنا رکھی ہے۔انہوںنے کہا کہ مودی کی نسل پرست حکومت کشمیر کو فلسطین میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

نعیم احمد خان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے اتحاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانے کے لیے بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بھارتی حکومت کشمیریوں کی شناخت کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے تو دوسری طرف سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف بھی مذموم کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کے بڑے پیمانے پر قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ حق پر مبنی آزادی کی تحریکوں کو فوجی طاقت کے استعمال سے دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جلد یا بدیر بھارت کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا کیونکہ وہ کشمیریوں کو زیادہ دیر تک یرغمال نہیں رکھ سکتا۔