دہلی فسادات؛ مسلمانوں کے حق میں ریمارکس پر ہائی کورٹ کے جج کوضلع بدرکردیا گیا

0
64

نئی دہلی:دہلی فسادات؛ مسلمانوں کے حق میں ریمارکس پر ہائی کورٹ کے جج کوضلع بدرکردیا گیا ،اطلاعات کےمطابق دہلی میں مسلم کش فسادات کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تین وزراء کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ریمارکس دینے پر دہلی ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔

گزشتہ روز دہلی میں تشدد اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلی دھر نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر تین بی جے پی وزراء یعنی انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔

آج صبح تک دہلی فسادات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں ایک رپورٹ میں بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق دہلی کے مسلم کش فسادات میں اب تک 3 درجن سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ چار روزہ ہنگاموں اور تشدد کے بعد اگرچہ اس وقت حالات پرسکون ہیں لیکن اب بھی پرانی دلّی کے مسلم اکثریتی علاقوں پر خوف اور دہشت کا راج ہے۔

بی بی سی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود ان کے نمائندے کو موٹر سائیکل پر سوار تین لڑکے دکھائی دیئے جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ان فسادات کا آغاز اتوار کے روز اُس وقت ہوا جب مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کے خلاف دہلی میں پرامن دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر مسلح ہندو جتھوں نے حملہ کردیا۔

Leave a reply