fbpx

‏ان، انا پسندی اور خودغرضی ،تحریر: ڈاکڑ حمیرا

“جب میں نے کہہ دیا تو تمہیں سمجھ نہیں آتی ایک بار جو کہا میں دن کو دن بولوں تو دن سمجھو، تمہاری عقل ہے یا کہیں بیچ کھائی ہو۔ خبردار آیندہ میرے سامنے آواز اونچی ہوئی”
“میری بات رد کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے؟ مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے فیصلے پر چوں و چرا کرے۔ میری بات پتھر پر لکیر ہے۔”
“میں اسے کیوں کال کروں؟ میری بلا سے وہ زندہ رہے یا جئے بس یہ میری انا گوارہ نہیں کرتی کہ اس کے پیچھے پیچھے پھروں”
"بڑا ہی انا پرست ہے, اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا/لاتی۔”
“میرا مشورہ کو یہ فالتو ہے جو بلاوجہ ہی دوں، اتنا فالتو نہیں میں کہ ہر ایرے غیرے کو منہ لگاؤں۔”
"جیسے میں یہ کام کر سکتا کسی اور میں تو یہ صلاحیت ہے ہی نہیں اتنے اچھے سے کرنے کی، سب میرے سامنے پانی بھرتے۔”
اکثر اس قسم ۔کے فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں، ہم سب ایسے رویے کہ وجہ سے مسلسل حالت تکلیف میں بھی رہتے، لیکن انا پسندی کی عادت کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
آناہے کیا؟
خودغرضی اور انا کا کیا رشتہ ہے؟
انا کی منفیت سے بچنے کے کیا راستے ہیں؟

عربی لفظ "انا” کا مطلب "میں” واحد متکلم ہے، ہر وہ چیز جو ہم اپنی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنا پر کرتے، اور اس میں دوسرے انسان کے نفع نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے تو اس کیفیت قلبی کو اناکہتے۔
انا بذات خود غلط نہیں ہے، انا پسندی ضرور غلط ہے۔ جب ہم انا کے غلام بننے لگتے تو یہ ایک منفی جذبہ بن جاتی، تب یہ خودغرضی کا لبادہ اوڑھ لیتی۔ اور اصل برائی کی جڑ یہ انا کی غلامی ہی ہے۔ انا کا موجود ہونا تب تک قابل قبول رہتا جب تک اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتارہتا، انسانی انہی نے انسان کو بقاء کے مقام پر کھڑا کیا، لیکن جیسے ہی اسے ایک مکمل سکروٹنی کے نظام سے آزاد کرتے تو انا کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑتا اور خودپسندی اور خودغرضی کا عفریت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگتا، جس کے سائے اتنے دبیز ہوجاتے کہ دوسرے انسان اور ان کی ضروریات اپنے سامنے ہیچ لگنے لگتے۔

انا کی غلامی میں جانے والے شخص کی زندگی سطحی اور مصنوعی ہونے لگتی، اسے ہر آن اپنی کھوکھلی شخصیت کو برقرار رکھنے کے لئے کھوکھلے اور جھوٹے رویوں کا سہارا لیناپڑتا، اور نتیجتا” تنہائی کا شکار ہونے لگتا۔ انا پسند اور خودغرض انسان کے لئے اس کی ذات کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی کہ وہ اذیت پسند ہونے لگتا، بلاوجہ کاغصہ دراصل اس کی کمزور شخصیت کو کیموفلاج کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کی وجہ سے ہر محبت کرنے والا اس سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
انکی پیروی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے ربوبیت سے انکار اور انا الحق کا نعرہ بلند کرنے والے بن گئے، ایک اللہ کی نا ماننے والے ہوئے اور منکرین ہونے کے ساتھ ہی اپنی خودپسندی کے زعم میں فرعون و نمرود بن کر خدائی تک کے دعوے کربیٹھے۔ زمینی تخت نشین اپنی انا کے ہاتھوں مجبور عام لوگوں کو روانسان بھی نہیں گردانتے، تو یہ انا جب اک بیماری کی شکل اختیار کر لے تب ہی خدائے عزوجل کی طرف سے ان زمینی خداؤں پر عذاب الٰہی کی صورت کچھ نا کچھ ایسااتارا جاتا جو نسل انسانی کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اے حضرت انسان، اگر تم خود کو سپرد کر دو گے اس کے جو میری چاہت یے،تو میں بخشدوں گا تجھ کو جو تیری چاہت ہے۔

حتمی فلاح کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ انکے سرکش گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اوراسے خود غرضیوں خود پسندی کی راہ تک جشنے سے روکا جائے تاکہ انسانیت کی روح پنپ سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان دوسرے انسان کو جینے کا حق دینے پر راضی ہو جائے گا، جب وہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ پوری ایمانداری سے فرائض کی ادائیگی پر بھی کام کرے۔ کہ ایک کے فرائض ہی دوسرے کے حقوق ہیں۔
اسلامی نظام معاشرت ایسے تمام منفی رجحانات کا حل دیتا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس معاشرت کو اختیار کریں جس میں اناتو قابل قبول ہے، انا پسندی و خودنمائی نہیں۔