fbpx

انڈوں اورفائرنگ کے واقعات پرالیکشن کمیشن کی خاموشی کیوں؟

جہلم کے قریب پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈا پوراوروزیرمواصلات مراد سعید کے قافلے پرانڈے اورپتھرپھینگے گئے ہیں، اس قافلے میں پی ٹی آئی کے دیگررہنما بھی شامل تھے، یہ قافلہ انتخابی جلسہ کی طرف جا رہا تھا، لنک روڈ ڈ پرکھڑے سیاسی رہنما نے اس واقعہ کی وڈیو بھی بنائی ہے، وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان قافلے پرانڈے اورپتھرپھینک رہے ہیں، پی ٹی آئی کے مصدقہ ٹویٹراکاؤنٹ نے اس وڈیوکولگانے ساتھ لکھا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ فاروق حیدرکی ہدایت پریہ حملہ کیا گیا ہے، اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ حملہ کروایا ہے.

اس پرردعمل دیتے ہوئےعلی امین کے گارڈزنے ہوائی فائرنگ کی ہے، فائرنگ کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے، مگرالیکشن مہم کے دوران سرعام اسلحہ کی نمائش اورفائرنگ پر پاپندی ہوتی ہے، وفاقی وزرا کی طرف سے کیے گئے اس عمل پر کوئی ایکشن لیا جاسکے گا، کیا وفاقی وزرا پرہونے والے حملے پر کوئی ایکشن ہوگا، ان دونوں واقعات سے الیکشن کمیشن کی کارکردگی ظاہرہوسکے گی.

الیکشن کمیشن نے ابھی تک اس واقعہ کا نوٹس نہیں لیا ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن میں ان واقعات پرابھی تک کسی ادارے نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے.
کیا الیکشن کمیشن کسی جماعت کی نمائندگی کررہا ہے، الیکشن کمیشن پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گیا ہے، الیکشن مہم کے دوران اس قسم کی واقعات کو روکا کیوں نہیں جاسکا ہے، ایکشن لینے کے بعد دونوں‌ واقعات میں ملوث ذمہ داروں قانونی کاروائی کی جائے گی.