fbpx

آنکھوں کےتفصیلی معائنےسےدرست حیاتیاتی عمرمعلوم او قبل ازوقت موت کااندازہ لگایاجاسکتاہے

لندن : ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے تفصیلی معائنے سے نہ صرف درست حیاتیاتی عمر معلوم کی جاسکتی ہے بلکہ قبل ازوقت موت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آنکھوں کی حیاتیاتی عمر اگر بقیہ عمر سے زائد ہوتو وہ کئی امراض اور جسمانی کیفیات کو ظاہر کرتے ہوئے قبل ازوقت موت کی اطلاع بھی دیتی ہیں-

باغی ٹی وی :برٹش جرنل آف اوپتھیلمولوجی میں شائع رپورٹ کے مطابق عمرگزرنے کے ساتھ بیماریاں اور جسمانی تبدیلیاں آگھیرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ عین یکساں عمر والے دو افراد میں بھی یہ کیفیات مختلف ہوسکتی ہیں اس طرح ماہ وسال کی بجائے اگردرست جسمانی حیات معلوم کی جائے تو وہ اصل عمر سے زائد ہوسکتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بیماریاں اور جسمانی تبدیلیاں اصل عمر سے بڑھ کربھی ہوسکتی ہیں۔

پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

یعنی اگر کسی شخص کو 40 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑا اور قلب کو نقصان پہنچا ہے تو اب دل کی عمر اصل عمر سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ مرض نے دل کو مزید بوڑھا کردیا ہے جسم میں بعض کیمیکل، بایومارکر، جینیاتی کیفیات، دماغی صلاحیت، امنیاتی نظام اور بلڈ پریشر سے بھی بدن کی حیاتیاتی عمر معلوم کی جاسکتی ہے۔ ساتھ میں یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ کیفیات کس قدر جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں۔

تاہم اب سائنسدانوں نے 40 سے 69 سال تک کے47 ہزار افراد کی آنکھوں میں پچھلے گہرے ترین حصے ’فیونڈس‘ کی 80 ہزار تصاویر لیں اور ان تمام تصاویر کو مشین لرننگ الگورتھم سے گزارا تو سافٹ ویئر نے اصل عمر کے مقابلے میں ریٹینا کی حیاتیاتی عمر کا درست اندازہ پیش کیا51 فیصد افراد کے ریٹینا کی عمر کا فرق 3 سال، 28 فیصد کا 5 سال اور چار فیصد افراد میں 10 برس کا فرق سامنے آیا یوں ان سارے لوگوں کی آنکھوں کی حیاتیاتی عمر خود ان کی عمر سے زائد تھی۔

مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

ان میں سے بڑی عمر کے 49 تا 67 فیصد افراد دل یا کینسر کے امراض سے ہٹ کر بھی قبل ازوقت موت کے دہانے پر تھے یعنی آنکھوں کا بڑھاپا موت کے خطرے کو دو سے تین فیصد تک بڑھا سکتا ہے اور اس کی ایک طرح سے پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے تاہم اب ماہرین اس کی دیگر وجوہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنکھیں بدن کا روزن ہوتی ہیں اور ان سے بہت ساری طبی کیفیات معلوم کی جاسکتی ہیں۔

قبل ازیں دماغی ماہرین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کے نئے نظریے کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے دونوں دماغی ماہرین نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

تحقیق میں دونوں ماہرین ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نیوروسائنس میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے۔

چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق