fbpx

اعظم سواتی کے دور وزارت کے ظلم کی اور کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد:اعظم سواتی انصاف مانگ رہے ہیں جبکہ انہوں نے میرے والد کو نشانہ بنایا جو اس وقت پاکستان ریلوے بلوچستان کے سربراہ کے طور پر تعینات تھے، سماجی رابطے کی ویٹ سائٹ ٹویٹر پراس حوالے سے ماضی کے کچھ تکلیف دہ واقعات ایک سینیرریلوے افسر کے بیٹے نے کہانی بیان کی ہے

اس نوجوان کا نام طارق خٹک ہے ان کا کہنا ہے کہ آج اعظم سواتی انصاف مانگ رہ ہیں لیکن ان کو وہ وقت یاد نہیں کہ جب وہ دوسروں کی تذلیل کیا کرتے تھے ، طارق خٹک نے کہا کہ اعظم سواتی میرے والد پرصرف اس لیے ناراض تھے کہ کہ انہوں نے اعظم سواتی کے دوستوں کو ریلوے کی قیمتی زمینیں "غیر قانونی طور پر” الاٹ نہیں کیں۔

سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے جوڈیشل لاجز کوئٹہ میں قیام کے دعوے کو مسترد کردیا

طارق خٹک کہتے ہیں کہ ان دنون کی بات ہے کہ جب میرے والد میری والدہ کے "چالیسوان” میں بھی شرکت نہیں کر سکے کیونکہ اعظم سواتی نے ان پر کام کا دباو ہی بہت زیادہ بڑھا رکھا تھا

وزیراعظم کےجوڈیشیل کمیشن کا خیر مقدم کرتا ہوں:عمران خان

طارق خٹک کہتےہیں کہ صرف یہ ہی نہیں بلکہ بعد میں اعظم سواتی نے میرے والد محترم کا تبادلہ کر دیا کیونکہ وہ کیوں کہ وہ اعظم سواتی کے دوستوں کو قیمتی ریلوے اراضی الاٹ کرنے کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے پر راضی نہیں تھا۔