fbpx

انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جنیوا:کینیڈا سے لے کر روس تک درجہ حرارت بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس سے ماہرین اور عوام میں تشویش پھیلانے والے پودوں اور جانوروں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ، اب ، یہ خبریں آرہی ہیں کہ انٹارٹیکا میں بھی گرجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا –

باغی ٹی وی :یکم جولائی کو قطب جنوبی پر 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں مزید متوقع اضافہ ’بھیانک حد تک‘ پہنچ سکتا ہے جو مارچ 2015 میں پچھلی اعلی 17.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک چڑھ گیا تھا۔

حالیہ تحقیقات سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ برفانی براعظم قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) اور گرین لینڈ کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ کے اضافے سے بھی وہاں جمی ہوئی کھربوں ٹن برف پگھل سکتی ہے جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح 43 فٹ تک بلند ہوسکتی ہے۔

50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ اس مقام تک پہنچ گیا تو پھر شاید ہمارے پاس ماحول کو دوبارہ درست کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔

انٹارکٹیکا کا اوسط درجہ حرارت ساحلی علاقوں میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ براعظم کے درمیان بلند ترین مقامات پر منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔

گرمیوں میں انٹارکٹیکا کا اوسط ساحلی درجہ حرارت گرمیوں میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زیادہ، اور سردیوں میں منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے جبکہ جمعہ کے روز انٹارکٹیکا میں 18.3 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت کی تصدیق، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’’عالمی موسمیاتی تنظیم‘‘ (ڈبلیو ایم او) نے کی تھی۔

سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

یہ درجہ حرارت انٹارکٹیکا میں ارجنٹائن کے تحقیقی مرکز ایسپیرینزا نے 6 فروری 2020 کے روز ریکارڈ کیا تھا۔ البتہ انٹارکٹیکا میں بلند ترین درجہ حرارت 30 جنوری 1982 کے روز، 19.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس سال 9 فروری کو انٹارکٹیکا میں برازیل کے تحقیقی مرکز نے بھی وہاں 20.75 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت معلوم کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ڈبلیو ایم او نے تجزیئے کے بعد اس ریکارڈ کو مسترد کردیا ہے۔

پاکستان میں عالمی حدت کے اثرات .تحریر:حمزہ احمد صدیقی

عالمی موسمیاتی تنظیم کے اوّل نائب صدر اور ارجنٹائن میں محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر سیلیستو ساؤلو نے کہااس نئے ریکارڈ سے ایک بار پھر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کےلیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے-

دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل، پیٹیرے تالاس نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ برفانی براعظم انٹارکٹیکا، دنیا میں سب سے تیزی سے گرم ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں کا اوسط درجہ حرارت پچھلے پچاس سال میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل