انور مقصود کی قومی کرکٹرز پر طنزو مزاح والے انداز میں شدید تنقید

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف ترین مزاح نگار، شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان اور مصور انور مقصود نے اپنے مداحوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی کرکٹرز کی ناقص پرفارمنس پر اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

باغی ٹی وی : اسٹرنگز بینڈ کے رکن اور نامور کمپوزر و گلوکار بلال مقصود نے ایک بار پھر اپنے والد اور پاکستان مشہور ترین مزاح نگار، شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان اور مصور انور مقصود کے ساتھ سوال و جوابات کا سیشن رکھا اور ا س سیشن میں بھی انور مقصود نے اپنے مداحوں کے 10 سوالات کے جواب دیئے۔

سوال اور جواب سیشن کے راؤنڈ 2 کی ویڈیو بلال مقصود نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پوسٹ کی۔


بلال مقصود نے سوال و جواب کے راؤنڈ 2 کا آغاز کرتے ہوئے انور مقصود سے قومی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے حوالے سے سوال کیا کہ ہمارے کھلاڑی کس طرح کی پرفارمنس دیں گے؟

اس سوال کے جواب میں انور مقصود نے قومی کرکٹرز کی پرفارمنس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے کھلاڑی گھروں میں اتنا کرکٹ کھیل رہے ہیں اور میں اُن کی بیٹنگ دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں۔

انور مقصود نے کہا کہ پہلی بار میں نے ہمارے کھلاڑیوں کو اتنی اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اُنہوں نےکہا کہ میں کہتا ہوں کہ پی سی بی انگلش کرکٹرز سے بات کرے کہ میچ گراؤنڈ کے بجائے اپنے گھروں میں ہی رکھیں کیونکہ ہمارے قومی کرکٹرز گھروں میں بہت اچھا کھیلتے ہیں۔

انور مقصود نے کا کہ ہمارے کھلاڑی جس طرح گھر میں کھیلتے ہیں ان کو کوئی بھی نہیں ہرا سکتا، یہ انگلینڈ میں انگریزوں کے گھروں میں میچز رکھیں ڈرائینگ روم میں برآمدے میں بیڈ روم میں ہو انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا یہ جس طرح گھرمیں کھیلتے ہیں یہ اپنی پرفارمنس سے تہلکہ مچا دیں گے۔

بلال مقصود کے دوسرے سوال وزیراعظم عمران خان کے بلین درختوں کی کیمپئین کے جواب میں انور مقصود نے طنز و مزاح والے انداز میں خیبر پختون خان کے سابق چیف منسٹر پرویز خٹک پر تنقید کی کہا پرویز خٹک نے 3 لاکھ پودے لگائے اور پچھلے ہفتے عمران خان صاحب کے پاس گئے اور کہنے لگے مبارک ہو سر جو پودے لگائے تھے ان میں سے ایک پر پپیتا نکل آیا ہے

گلوکار نے اپنے والد سے تیسرا سوال کیا کہ اب گرمیاں آگئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ جائے گا تو اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

انور مقصود نے اس سوال کا دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا کریں لوڈشیڈنگ کا 12 ،12 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جہاں نقصان ہے وہاں فائدہ بھی ہے، جیسے ہی بجلی جاتی ہے میں ٹیلیوژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور پھر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہوں۔

اس کے بعد بلال مقصود نے اپنے والد سے ریپیڈ فائر سوالات کیے جس کا جواب صرف ایک لفظ میں دینا ہوتا ہے۔

بلال مقصود نے پوچھا غلام علی یا مہدی حسن؟ انور مقصود نے کہا کہ مہدی حسن۔

گلوکار نے پوچھا شیگی یا عالمگیر؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ اس کا جواب مشکل ہے دونوں گاتے تھے اچھا گاتے تھے

اِس کے بعد بلال مقصود جب ملکہ ترنم نور جہاں کے بارے میں پوچھنے لگے کہا ملکہ تو انور مقصود نے کہا کہ ’نور جہاں کے ساتھ یا نہیں لگے گا اُن کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جاسکتا۔

گلوکار نے پوچھا عزیز میاں یا صابری برادر؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ صابری برادر

گلوکار نے پوچھا اسٹرنگز یا وائیٹلز سونگز ؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ یہ کیسا سوال ہے میں نے کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اچھائی نہیں کی انہوں نے کہا یہ اس طرح کا سوال ہے کہ نواز شریف اچھا یا شہباز شریف جس پر گلوکار نے کہا مطلب دونوں بُرے ہیں؟جس پر انور مقصود نے کہا نہیں یہ فیصلہ عوام کرے گی-

گلوکار نے پانچواں سوال کیا کہ اگر بنگلادیش پاکستان سے الگ نہ ہوا ہوتا تو کیا ہوتا؟

اِس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ ’عابدہ پروین بنگالی گانے گارہی ہوتیں اور ملک ریاض بنگال بحریہ بنا دیتے۔ بلال مقصود نے کہا سیریس جواب دیں جس پر انور مقصود نے کہا پاکستان جب بنا تو پانچ صوبے تھے تو فاصلہ تھا چاروں صوبوں کا مشرقی پاکستان سے فاصلہ تھا انہوں نے فاصلہ کم کرنے کی بجائے ختم دیا اس کے بارے میں کیا بتاؤں

انور مقصود نے پوچھا پاکستان ترقی کب کرے گا؟ جس پر اُن کے والد نے کہا کہ ’پاکستان کا نام جرمنی رکھ دیں 2 سیکنڈ میں ترقی یافتہ ممالک میں آجائے گا۔

گلوکار نے سوال کیا کہ آپ لکھائی میں کس سے متاثر ہوئے ہیں؟ جس پر انور مقصود نے کہا کہ پطرس بخاری سے

گلوکار نے سوال کیا کہ آپ مصوری میں کس سے متاثر ہوئے ہیں؟ شاکر علی صاحب اور سے

گلوکار نے سوال کیا کہ آپ پاکستان میں اچھا کمپوزر اور میوزیشن کسے مانتے ہیں؟ انہوں نے کہا خواجہ خورشید کو

کوکنگ کا شوق کہاں سے آیا کس سے سیکھا؟ والدہ سے

انور مقصود نے سیاست میں آنے کے حوالے سے سوال کیا تو انور مقصود نے کہا کہ ’ایک وقت تھا میری خواہش تھی کہ میں قائد اعظم کی مسلم لیگ دوبارہ بناؤں لیکن حالات دیکھ کر یہ خیال دل سے نکال دیا۔ سب سیستدانوں نے مسلم لیگ کے اپنی اپنی جماعتیں بنا لیں بس لفظ چ رہ گیا تھا میں نے سوچا میں مسلم لیگ چ بنالوں لیکن پھر سوچا چلے گا نہیں-

بلال مقصود نے پوچھا کہ آپ نے بڑا کچھ حاصل کیا زندگی میں کبھی کسی بات پر افسوس ہوا؟ انور مقصود نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے ساتھی مصوروں کی پیٹنگز فروخت کی تھی کیونکہ اس وقت میرہ تنخواہ 270 تھی گھر کا خرچہ چلانا مشکل تھا کوئی تصویر 200 میں کوئی ڈیڑھ سو میں اور اسب سے مہنگی تصویر 400 روپنے میں بیچی تھی جس پر آج تک شرمندگی ہوتی ہے۔

آخری سوال کے جواب میں انور مقصود نے کہا کہ فلم بنانے کا بہت سالوں سے سوچ رہا ہوں اور ابھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر فلم بنانے کا سوچا ہے۔

وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل کی کروڑوں کی آمدنی پرائیویٹ کمپنی کو جارہی ہے

کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز

انور مقصود نے موجودہ دور میں ٹی وی کے لئے ڈرامے نہ لکھنے کی بڑی وجہ بتا دی

موسیقی ایک قدرتی چیز ہے اس پر سرحدوں کا کوئی زور نہیں بھارتی فنکاروں پر پاکستانیوں کے ساتھ کام کرنے کی پابندی پر علی سیٹھی کا جواب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.