fbpx

عورت مارچ، اجازت کے لئے انتظامیہ کو درخواست دے دی گئی

عورت مارچ تنظیم کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ کو عورت مارچ کیلئے درخواست جمع کروا دی گئی ہے

درخواست عورت مارچ کیلئے این او سی حاصل کرنے کیلئے دی گئی ،عورت مارچ کی جانب سے رواں برس عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر 8 مارچ 2023 کو نیشنل پریس کلب کے باہر عورت مارچ کیلئے اجازت طلب کی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عورت مارچ نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک کی جائے گی۔ انتظامیہ اجازت دے، عورت مارچ پر امن ہو گا، جس میں خواتین اپنے حقوق کے لئے بات کریں گی، عورت مارچ کا آغاز دو بجے ہو گا جبکہ اختتام شام پانچ بجے ہو گا،درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس عورت مارچ کو دھمکیاں ملی تھیں، اس لئے رواں برس عورت مارچ کی سیکورٹی کا بھی انتظام کیا جائے، عورت مارچ میں ایک ہزار سے دو ہزار شرکاء کی تعداد متوقع ہے

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے عورت مارچ کی درخواست موصول ہونے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،ہر سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لاہور، اسلام آباد، کراچی سمیت کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے،سماجی تنظیمیں بھی عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی ہیں، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے عورت مارچ منعقد کیا جاتا ہے،

عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں