fbpx

عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری، راستوں کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ گزشتہ رات ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کوگرفتاراور ہراساں کیا جارہا ہے –

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دھرنوں اور جلسوں سے متعلق سپریم کورٹ کا احکامات واضح ہیں – بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کارکنوں کو اکٹھے ہونے سے نہیں روکا جاسکتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دھرنا کیس میں قواعد و ضوابط واضح کر چکی ہے چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قواعدِ و ضوابط پر عمل کیا جائے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ پہلے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں-

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مسئلہ اجازت کا نہیں کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج آپ کا حق ہے آپ عدالت سے عمومی حکم مانگ رہے ہیں عدالت عمومی حکم نامہ جاری نہیں کرسکتی کل کو خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو جائے یہ عدالت عمومی آرڈر جاری نہیں کرسکتی سپریم کورٹ کے دھرنا کیس کے فیصلے کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں- بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وکلا، سابق ججز کے گھروں تک پر چھاپے مارے جارہے ہیں -چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ نہیں ہوگا اگر ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ میں عدالتی فیصلوں کا جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کر دیتا ہو-عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا-

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اس کورٹ کے دائرہ کار سے گرفتاریوں کو روکا جائے، عدالت نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے 25 مئی کو ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی ہے-

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلینکٹ آرڈر تو یہ عدالت نہیں دے سکتی کیونکہ یہاں پر حساس عمارتیں ہیں، یہاں پر ایمبیسیز ہیں اس طرح کا آرڈر تو جاری نہیں کر سکتے، عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے کارکنان اور لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کی ہراسگی یا گرفتاری پر آئی جی پولیس سے جواب طلبی ہو گی

معیشت اورعوام کوبچانےکےلیےریڈلائن لگانے کا وقت آگیا ہے،مریم اورنگزیب

آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟ ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے استفسار

پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار