کھودا پہاڑ نکلا چوہا، اے پی سی اختلافات کا شکار، کوئی بڑا فیصلہ نہ ہو سکا

اپوزیشن جماعتوں‌ کی آل پارٹیزکانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہے کہ نام نہاد حکمرانوں کوتمام سیاسی جماعتیں مسترد کرچکی ہیں، نام نہاد حکمرانوں کا ٹولا دھاندلی کے نتیجے میں قوم پر مسلط کیا گیا. ملک پرعوام کی نمایندہ حکمرانی موجود نہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہے کہ نام نہاد حکمرانوں کوتمام سیاسی جماعتیں مسترد کرچکی ہیں. ملک کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکا رہے. ملکی معیشت زمین بوس ہوچکی ہے. حکمرانوں کایجنڈا ملکی مفادات کی بجائے کسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے. مہنگائی سے غریب عوام کی کمر توٹ گئی ہے. حکومتی قیادت کے فیصلوں نےہمارے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے. ملک دیوالیہ پن کی حدود کو عبورکرنے کی تیاری کررہا ہے.

غیرمنتخب نمائندے کی سربراہی میں ہونیوالی اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھرمار

اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہےکہ معاشی زبوں حالی،بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ملکی سلامتی کیلیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں. ملک کے بڑے اداروں پر غیر ملکی مفاداتی اداروں کا کنٹرول ملکی معاشی خودمختاری داؤ پر لگانے کے مترادف ہے. حکمرانوں کایجنڈا ملکی مفادات کی بجائے کسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے. معاشی زبوں حالی،بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ملکی سلامتی کیلیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں. ملک معاشی دیوالیہ پن کی طرف جاتا نظر آرہا ہے. بزنس کے مواقع مشکل بنادیے گئے ہیں. پاکستان کوملک دشمن قوتوں کی ایماپرمعاشی طور پرکمزور کیا جارہا ہے . حکومت کےفیصلےملکی سلامتی،خود مختاری اور بقا کیلیے خطرہ بن چکے ہیں. رآمدات مزیدکم ہونگی،بیرونی تجارت ،بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ بڑھے گا

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی، ختم ہونے سے قبل ہی اختلافات کا شکار

اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہے کہ معیشت آئی ایم ایف کے سپرد کردی گئی ہے. اسٹریٹجک اثاثے ،سی پیک بچانےکیلیےریاستی اداروں کی پشت پناہی کرتےہوئےانکادفاع کرنا ہوگا. برآمدات مزیدکم ہونگی،بیرونی تجارت ،بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ بڑھے گا. اسٹریٹجک اثاثے ،سی پیک بچانےکیلیےریاستی اداروں کی پشت پناہی کرتےہوئےانکادفاع کرنا ہوگا،

اے پی سی کا آغاز،بلاول پہنچے عدالت، مریم نواز کو کہاں بٹھایا گیا؟ اہم خبر

واضح رہے کہ اے پی سی کے دوران مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اسمبلیوں‌ سے استعفیٰ کی تجویز پیش کی گئی تھی تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اس تجویز کو قبول نہیں‌ کیا اور اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ اسمبلیوں سے استعفے ملکی مسائل کا حل نہیں ہے. پارلیمنٹ سے باہر رہ کراپنا موقف بہترطریقےسے نہیں دے سکیں گے. اے پی سی کا اعلامیہ تو جاری کر دیا گیا ہے تاہم احتجاجی تحریک کے حوالہ سے حکومت کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ نہیں‌ کیا جاسکا. اے پی سی کا اعلامیہ جاری، استعفوں‌ پر اختلاف کے سبب کوئی بڑا فیصلہ نہ ہو سکا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.