اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی، ختم ہونے سے قبل ہی اختلافات کا شکار

حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ختم ہونے سے قبل ہی اختلافات کا شکار ہوگئی، مولانا فضل الرحمان نے اسمبلی سے استعفوں کا مطالبہ کیا تو مسلم لیگ ن اور پی پی نے پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج کی تجویز دے دی

غیرمنتخب نمائندے کی سربراہی میں ہونیوالی اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھرمار

اے پی سی،حکومت کے خلاف کیا فیصلہ ہوا، بڑی خبر

اپوزیشن کی اے پی سی قیدیوں کو چھڑانے کیلئے ہے، نعیم الحق

اے پی سی حکومت پر دباو ڈالنے کے لئے ہے، مراد سعید

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوںنے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ، اس ضمن میں کمیٹی قائم کی ہے جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں، کمیٹی اے پی سی میں لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی،آل پارٹیز کانفرنس کےمتفقہ اعلامیہ کی تیاری کےلیے 11 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے کمیٹی میں رحمت اللہ کاکڑ،اویس نورانی،شفیق پسروری، فرحت اللہ بابر، یوسف گیلانی، احسن اقبال شامل،رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی،میاں افتخار، سینیٹر عثمان خان اور ہاشم بابر شامل ہیں، کمیٹی تجاویز کی روشنی میں اے پی سی کا متفقہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا ،اے پی سی کی اعلامیہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا

اجتماعی استعفوں کی تجویز پرخاموشی ،اے پی سی میں کیا طے ہو گا؟ اہم خبر

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی جمعہ بازار کی بیٹھک ہے، شیخ رشید

دوسری جانب آل پارٹیزکانفرنس میں ایک مرتبہ پھراسمبلیوں سےاستعفوں پراتفاق نہ ہوسکا ،جےیوآئی،اےاین پی،پختون خوامیپ استعفوں کی حامی ہے ان کا کہنا ہے کہ استعفیٰ دینےسے حکومت شدید ترین دباؤمیں آجائےگی، پی پی اور مسلم لیگ ن نے استعفوں کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ ہمیں اتنی جلدی حکومت کومظلوم نہیں بننےدیناچاہیے،استعفیٰ ایک آپشن ضرور ہے لیکن یہ آخری آپشن ہونا چاہیے، پہلےمرحلےمیں ایوان کےاندراورباہراحتجاج کاراستہ اختیارکرناچاہیے .

عوامی نیشنل پارٹی کے صدراسفند یارولی نےچیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی فوری تبدیلی کی تجویز دے دی ،اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں جماعتوں کے قائدین کے لئے 43 جبکہ مجموعی طور پر 84 کرسیاں لگائی گئی ہیں ،بی این پی مینگل نے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے مولانا فضل الرحمان کے نام تحریری پیغام مولانا اسعد محمود کو دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اے پی سی میں ہماری سفارشات پر جائزہ لیا جائے.

اپوزیشن کی اے پی سی ہو گی ان کیمرہ، میڈیا بریفنگ ہو گی آخر میں

حکومتی اتحادی جماعت بی این پی اے پی سی میں شرکت کریگی یا نہیں، فیصلہ ہو گیا

اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات

مریم نواز کا ایک اور یوٹرن، مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، مریم نواز نے کیا کہا؟

واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

اے پی سی سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس

اپوزیشن کی اے پی سی شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ،اہم خبر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.