fbpx

اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

انسان کو  اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کیونکہ انسان
اور باقی تمام مخلوقات  میں واضح فرق فہم و فراست کا ہے۔
دنیا میں کم و بیش 18 ہزار مخلوقات ہیں ان میں سے انسان کو سب سے افضل بنایا گیا ہے انسان کو اشرف المخلوقات (سب مخلوقات میں سب سے اعلی) کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا میں نے روح زمین پے اپنا خلیفہ بھیجا ہے اور پھر اللہ پاک نے فرشتوں سے انسان کو سجدہ کرایا۔ وہ انسان آج اللہ پاک کے ہر حکم ہر بات کا انکار کر رہا ہے  جو انسان ایک سانس کا بھی محتاج ہے ایک سانس اندر لے تو اس کو یقین نہیں وہ باہر نکال سکے گا یا نہیں
یوں تو  جانوروں کو دیکھا جائے تو وہ بھی کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور سوتے ہیں  مگر فرق  شعور کا ہے وہ شعور  جو انسان کے پاس  موجود ہے

انسان انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے جب وہ اس شور کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو پہچانتا ہے اپنے مرتبے کو پہچانتا ہے
اگر انسان اپنی زندگی کھانے پینے اور سونے کا کام کرنے پر گزار دے تو انسان اور جانور میں فرق کیسا ؟؟

جب انسان کس چیز کی جستجو رکھتا ہے جس کی لگن ہے تو وہ اس کام کو ہر طریقے سے بھرپور طریقے سے مکمل طور پر سر انجام دینا چاہتا ہے اور پھر وہ کام اس کا عشق بن جاتا ہے جس طرح علامہ اقبال نے فرمایا

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !​
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​

خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو​
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر​

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں​
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر​
اس وقت  ضرورت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کہ ہمیں کیوں کب اور کس لئے اس دنیا میں بھیجا گیا آخر ہمارے  آنے کا مقصد کیا ہے جب انسان سب سمجھ لیتا ہے تو انسانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے

انسان جتنی مرضی ترقی کر لے آسماں کو چھو لے یا پانی کی گہرائی تک پہنچ جائے جب تک وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا اپنے مقام کو نہیں سمجھے گا ۔اس کی سب ترقی بے کار ہے

ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جو چیز کی جستجو ہے ہمیں اپنی اس جستجو کے حصول میں خود کو اتنا مگن رکھنا ہےکہ ہمارا اپنا ایک مقام بن جائے