fbpx

سیلاب زدگان کیلئے امدادی اشیاء کی خریداری اور لاجسٹکس کے ضمن میں 10 ارب روپے کی منظوری

اسلام آباد۔:کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلاب زدگان کیلئے امدادی اشیاء کی خریداری اور لاجسٹکس کے ضمن میں این ڈی ایم اے کیلئے 10 ارب روپے کی منظوری دیدی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس یہاں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی ورچوئل صدارت میں منعقدہوا،اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے امدادی اشیا کی خریداری کے ضمن میں این ڈی ایم اے کیلئے 10 ارب روپے کی منظوری دی گئی،

اجلاس میں وزارت خزانہ کو 5 ارب روپے فوری طورپرجاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں وزارت تجارت کی طرف سے پیش کردہ سمری پر18 اگست تک پاکستان پہنچنے والی ممنوعہ درآمدی اشیا کی کھیپ کو جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔اس پر سرچارج کی شرح لاگوہوگی۔

اجلاس میں وزارت صحت کوپیراسیٹامول کی قیمتوں کو معقول بنانے اور اس کی فراہمی کویقینی بنانے کیلئے پہلے سے جاری کردہ سمری کو واپس لینے اور نئی سمری پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں گوادرکی بندرگاہ کے ذریعہ گندم درآمد کرنے سے متعلق وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کی سمری مسترد کردی گئی۔

ادھر ایک اور اجلاس میں بھی ریلیف کے حوالے سے اہم فیصلے ہوئے ،وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور کی زیر صدارت ریلیف سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کا پہلا اجلاس ہوا ہے ،تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی امداد برائے سیلاب سے متعلق سرگرمیوں کے پہلے اجلاس کی صدارت ہوئی۔

میٹنگ کا ایجنڈا "انسانی امداد اور امدادی کوششوں کی نقشہ سازی” تھا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین، ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، وزارت خارجہ، وزارت صحت، بی آئی ایس پی، وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور او سی ایچ اے کے نمائندوں اور وزارت اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیر اقتصادی امور نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد کی موثر اور موثر فراہمی کے لیے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس