fbpx

اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت بند کی جائے جس نے پینی ہے اپنے نام پر پیئے۔اقلیتی ارکان

اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت بند کی جائے جس نے پینی ہے اپنے نام پر پیئے

اسلام آباد( محمد اویس) قوی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف نے اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت کے خلاف آئینی ترمیمی بل ووٹنگ کئے بغیر خارج کردیا گیا،بل کی جے یوآئی کے علاوہ تمام جماعتوں نے مخالفت کی ،جے یوآئی نےشرب پر مکمل پابندی لگانے کامطالبہ کیا۔اقلیتی ارکان نے کہاکہ اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت بند کی جائے جس نے پینی ہے اپنے نام پر پیئےشراب بوٹا مسیح کے نام پر فروخت ہوتی ہے اور پیتا محمدبوٹا ہے ۔چیرمین کمیٹی نے صوبہ خیبرپختون خوا کا نام تبدیل کرکے صرف پختون خوا کرنے کی آئینی ترامیم پر ارکان کمیٹی کواپنی جماعتوں سے مشاورت کی ہدایت کردی ،دیگر مذاہب کے مانے والوں کوآئین میں اقلیت اورغیرمسلم کے لفظ کو ہٹانے کا آئینی ترامیمی بل موخرکردیا گیا ۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کااجلاس ریاض فتیانہ کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں نوید قمر ،عطااللہ،لال چند،عالیہ کامران شنیلہ رتھ،محمود بشیر ورک،محسن نواز رانجھا،قادرخان مندوخیل نے شرکت کی ۔محسن داوڑ نے صوبہ خیبرپختون خوا کانام تبدیل کرکے صرف پختون خوا کرنے کی آئینی ترامیم پیش کرتے ہوئے صوبہ نے صرف پختون خوا نام کی قرارداد دومرتبہ پاس کی تھی مگر نام خیبرپختون خوا رکھاگیا پہلے این ڈبلیو ایف پی تھا اور کے پی کے ہوگیاہے کچھ لوگوں کے اعتراض کے بعد نام کے ساتھ خیبر لگایاگیاہے جس پر چیرمین کمیٹی نے تمام ارکان کواپنی جماعتوں سے اس بارے میں رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل کوموخر کردیا۔ ایم این اے کھیل داس نے اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت کے خلاف آئینی ترامیم پیش کی اور کہا کہ جس نے شراب پینی ہے وہ پیئے مگر اقلیتوں کوبدنام نہ کیاجائے اس سے ان کے مذہب کی توہین ہوتی ہے کسی مذہب میں شراب کو حلال نہیں کیا گیا ہے اس لیے اس ترامیم کو پاس کیاجائے اور اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت کوبند کیا جائے ۔

محمود بشیر ورک نے کہا کہ عیسائیت میں مذہبی تقریب میں شراب کااستعمال جائز ہے ہم ان پر پابندی نہیں لگاسکتے ،نوید قمر نے کہاکہ میں اس بل کی مخالفت کرتاہوں ،شنیلہ رتھ نے کہا کہ عیسائیت میں شراب حلا ل نہیں ہے شراب بوٹا مسیح کے نا م پر فروخت ہوتی ہے اور محمدبوٹا اس کوپیتا ہے اقلیتوں کوبدنام نہ کیا جائے ۔قادرمندوخیل نے کہا کہ پاکستان میں شراب کی فیکٹریاں ہیں اس طرح تو ان کوبند کرنا پڑے گا ۔عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اس لیے شراب پر مکمل پابندی ہونی چاہیے ۔چیرمین کمیٹی نے کہا کہ 18ویں ترامیم کے بعد یہ صوبائی مسئلہ ہے صوبائی اسمبلیوں میں بل پاس کئے جائیں اس کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت نہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ سے بھی یہ مسئلہ حل ہوسکتاہے جے یوآئی کی رکن کوجواب دیتے ہوئے چیرمین نے کہا کہ مولانافضل الرحمن سے اس بارے میں آپ پوچھیں کہ شراب پر پابندی ہونی چاہیے کہ نہیں ۔

 پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش

پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

سیالکوٹ کا شیطانی چرخہ لاہور میں گند نہ ڈالے ورنہ…عظمیٰ بخاری

عظمیٰ گل کی جانب سے سینئر صحافیوں کا ڈیٹا مخصوص افراد کو دینے پر صحافتی تنظیموں کا اظہار تشویش

چیرمین کمیٹی نے بل پر ووٹنگ کرائے بغیر بل خارج کردیا۔ایم این اے کھیل داس نے دیگر مذاہب کوآئین پاکستان میں لفظ اقلیت اورغیرمسلم کوہٹانے کی آئینی ترامیم پیش کی کہ آئین پاکستان سے یہ لفط ہٹائے جائیں جس پر جے یوآئی کے ارکان نے اعتراض کیاکہ غیرمسلم کوغیرمسلم نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے جس پر بل کو موخرکردیا گیا۔زاہد اکرم درانی نے قومی اسمبلی کی بنو ں میں نشت کے اضافے کے حوالے سے آئینی ترامیم پیش کی اور کہاکہ بنوں ملک کا سب سے بڑا آبادی کے لحاظ سے حلقہ ہے ۔ہمارا حق بنتاہے کہ حلقہ میں دو ایم این ایز ہوں ۔4ایم پی اے ہیں وہ 5 ہونے چاہیے۔

نوید قمر نے کہاکہ میرا حلقہ سب سے چھوٹا ہے اور کچھ حلقے بہت بڑے ہیں ۔ اضلاع کی باؤنڈی کو حلقہ بناتے ہوئے خیال رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام نے کہاکہ 50فیصد سے زیادہ ووٹ ہوں تو نیا حلقہ بنتاہے اس سے کم ہو تو نیا حلقہ نہیں بنتا ہے ۔لال چند نے کہا کہ کچھ حلقہ بہت بڑے ہیں ان کو حل ہونا چاہیے محمود بشیر ورک نے کہاکہ صوبوں میں قومی اسمبلی کی سیٹیں آبادی کی بنیاد پر ہونی چاہیے جس سے یہ مسائل حل ہوجائیں گئیں ۔کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے سفارشات طلب کرلی گئیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!