fbpx

اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ریلوے کی زمین پر ہوٹل کی تعمیر کے معاملے پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ریلوے کیسے اپنی زمین کسی پرائیوٹ پارٹی کو دے سکتی ہے؟ وکیل ریلوے نے کہاکہ ریلوے کا کوئی کردار نہیں پرائیوٹ بورڈ نے زمین دینے کا فیصلہ کیا،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا مذاق ہو رہا ہے، کتنے کی زمین پرائیوٹ پارٹی کو دی گئی؟

وکیل ہوٹل انتظامیہ نے عدالت میں کہا کہ زمین کی مالیت 60 کروڑروپے تھی اور قانون کے مطابق الاٹ ہوئی۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کروڑوں روپے کی زمین کہاں سے آگئی، اربوں، کھربوں روپے کے زمین کیسے کروڑوں میں دے دی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ صوبوں نے ریلوے کوزمین صرف ٹریک اوردفاتر بنانے کے لیے دی ، کبھی زمین ریلوے کو منتقل ہوئی ہی نہیں،پاکستان ریلوے کیسے اپنی زمین آگے فروخت یا لیز پر دے سکتی ہے.

ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے کہ ریلوے کی زمین کسی کو دی جا سکتی ہے؟ شہر میں ادھوری عمارتیں چھوڑ دیتے ہیں،کوئی قانون ہے کہ ادھوری عمارت چھوڑنے پر عمارت گرانے کا اختیار ہو،ریلوے والوں نے  اپنی سوسائٹیز بنا لیں، یہ تو معاملہ ہی سارا خراب ہے، پتہ نہیں کب ٹھیک ہوگا۔

عدالت نے ریلوے اراضی پرائیویٹ پارٹی کو دینے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا۔

اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم