fbpx

آرمینیا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے

یریوان: آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسیان نے حیران کن طور پور استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا کے صدر آرمین سرکیسیان نے اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں محدود اختیارات ہونے کے باعث ملک اور قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہوں صدر اور وزیراعظم نکول پشنیان کے درمیان اختلافات کا آغاز آذربائیجان سے جنگ کے وقت ہوا تھا جس میں آرمینیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بحرِ اوقیانوس کو تنہا سَر کرنے کی کوشش میں 75 سالہ فرانسیسی مہم جو ہلاک

آرمینیا کے صدر نے مستعفی ہونے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص منطق ہے ملک کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ بحران میں اختیارات نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کرسکا صدر کے پاس عوام اور ملک کے لیے مشکل وقت میں خارجہ اور ملکی پالیسی کے اہم عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے ضروری اوزار نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، مجھے امید ہے کہ بالآخر آئینی تبدیلیاں نافذ ہو جائیں گی اور اگلا صدر اور صدارتی انتظامیہ زیادہ متوازن ماحول میں کام کر سکیں گے۔”

حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

صدر سرکیسیان کے وزیراعظم نکول پشنیان کے ساتھ شدید اختلافات اس وقت سامنے آئے تھے جب آذربائیجان سے جنگ کے دوران وزیراعظم نے صدر کی مخالفت کے باوجود چیف آف جنرل اسٹاف کو عہدے سے ہٹا دیا تھا وزیراعظم کے اس آئینی فیصلے پر صدر سرکیسیان کو اپنے محدود اختیارات کا احساس شدید تر ہوتا گیا جس کےنتیجے میں آج چار سالہ صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔

امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

دسمبر 2015 میں ایک ریفرنڈم کے بعد، آرمینیا ایک پارلیمانی جمہوریہ بن گیا، اور صدارتی اختیارات کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا یعنی وزیر اعظم کے کردار کو زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے صدر کے بیان میں براہ راست کسی خاص واقعات یا مسائل کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ آذربائیجان سے جنگ میں شکست کے بعد عوام کی جانب سے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وزیراعظم نکول پشنیان نے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی –

اماراتی شہزادی کا بھارتی انتہا پسندوں پرشکنجہ کسنےکا فیصلہ،متعدد شکایتوں پردبئی کی…