fbpx

افغانستان میں جاری امن عمل میں پیشرفت نہ ہوئی تو بہت نقصان ہو گا،آرمی چیف

باغی ٹی وی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اینکرز کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں تیس کے قریب اینکر حضرات موجود تھے
ملاقات کا آغاز سلیم صافی کی والدہ کیلئے دعائے مغفرت سے ہوا.مجیب الرحمان شامی نے سلیم صافی کی والدہ کیلئے دعا کرائی
ملاقات کا بنیادی مقصد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات چیت تھا
کشمیر
چیف آف آڑمی سٹاف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت شروع ہوتی ہے تو اس کو سپورٹ کرنا چاہیے، شاہد خاقان عباسی جب وزیراعظم تھے اس وقت سے بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی کوششیں ہو رہی ہیں، آرٹیکل 370 کو ہم نے کھی تسلیم نہیں کیا، ہمارا مسئلہ آرٹیکل 35 اے ہے۔ ہو سکتا ہے آئندہ چند دنوں میں بھارت کی طرف سے اس مسئلے پر کوئی پیشرفت ہو۔ کشمیر بیچنے سے متعلق شاہد خاقان عباسی کا بیان انتہائی افسوسناک تھا۔
افغانستان
افغانستان میں جاری امن عمل میں پیشرفت نہ ہوئی تو بہت نقصان ہو گا، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ طالبان شکست سے دوچار ہو گئے ہیں، صورتحال ایسی نہیں ہے۔ امید ہے افغانستان کے اندر قیام امن کے لئے پیشرفت ہوگی۔
منیزے جہانگیر نے ملاقات میں سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کا معاملہ اٹھایا تو آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے مارنا ہو تو ایسے نہیں مارتے، بہت جدید ٹیکنالوجی آ چکی ہے، پتہ بھی نہیں چلنا تھا، پوری دنیا میں فوج اور خفیہ اداروں پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، یہاں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو مسنگ پرسنز کا واویلا مچا دیا جاتا ہے، کیا بارودی سرنگ دھماکوں میں شہید ہونے اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے مسنگ پرسنز نہیں ہیں ؟ کیوں جی حامد میر صاحب گولیاں تو آپ کو بھی لگی تھیں بتائیں ناں کس نے ماریں تھیں، آپ کو تو پتہ ہے، جس پر حامد میر نے کہا کہ ظہیرالاسلام نے ماری تھیں۔ اس پر آرمی چیف نے کہا کہ آپ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں میں کہہ رہا ہوں آپ کو،،،، لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ پر گولیاں جاوید مینگل نے چلوائی تھیں بتاتے کیوں نہیں؟
علی وزیر
سلیم صافی نے علی وزیر کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ان کی والدہ کا پیغام پہنچایاہے تو آرمی چیف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صافی صاحب آپ جانتے ہیں کہ علی وزیر کا مسئلہ کیا ہے ؟ علی وزیر کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ناجائز بس اسٹینڈ بنایا ہوا تھا جس سے قبضہ چھڑوایا گیا ہے، ان کی والدہ کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں بتائیں کہ کیا ایسا کرنا چاہیے ؟
ہمیں معلوم ہے کہ صحافی سفارتخانوں میں جاتے اور وہاں پر کیا گفتگو کرتے ہیں، اس پر حامد میر نے کہا کہ جو بات آپ کرتے ہیں وہ ہم سے کاونٹر چیک کرتے ہیں، آرمی چیف نے کہا کہ نہیں میر صاحب ایسا نہیں ہے، ہمیں پتہ ہے کون کیا باتیں کرتا ہے۔ کسی اینکر نے سوال کیا کہ وہ لوگ کون ہیں؟ جس پر آرمی چیف نے جواب دیا یہ سامنے بیٹھے ہیں۔
آرمی چیف نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان قومی دھارے میں واپس آئے گی ملک سے شدت پسند سیاست ختم ہو گی، ہم نے ماضی میں نواز شریف کو بھی سپورٹ کیا، عمران خان کو بھی سپورٹ کیا، کوئی اپنے وزن سے گرتا ہے تو یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.