fbpx

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1973ءکے آئین کے تناظر میں ماضی میں چیف آف آرمی سٹاف تعینات کئے گئے، موجودہ حکومت نے بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، قانون میں کہیں بھی چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی اور اس کے حوالے سے ٹی او آرز کا ذکر نہیں، سپریم کورٹ میں تین روز کے دوران تفصیلی بحث سے کئی چیزیں سامنے آئیں، آرٹیکل 243 اور آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 کا بار بار ذکر ہوا، آرٹیکل 243 چیف آف جنرل سٹاف کی تعیناتی سے متعلق ہے جبکہ آرمی ریگولیشنز کا سیکشن 255 اس کے عہدے اور رینک سے متعلق ہے، دونوں کو الگ الگ انداز میں دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعینات کئے گئے چیف آف آرمی سٹاف کے نوٹیفکیشن میں آرمی ریگولیشنز کے سیکشن 255 کا ذکر ہے، وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ آئین اور قانون پر عملدرآمد کریں گے، عدالت نے نوٹیفکیشن میں جو ترامیم کرائیں وہ آرٹیکل 243 کے حوالے سے تھیں، آخری نوٹیفکیشن میں سے عدالت کے حکم پر اس کا نام نکال دیا گیا ہے، اس آخری نوٹیفکیشن کو عدالت نے تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1973ءکے بعد اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس حوالے سے چھ ماہ کے اندر قانون سازی کی جائے جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے طریقہ کار سمیت دیگر امور کا احاطہ ہو تاکہ مستقبل میں اس قانون سازی کے تحت تعیناتی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی موجودہ حکومت کے لئے اعزاز کی بات ہو گی اور اس سے مستقبل میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق درست سمت متعین ہو گی۔ ملک کے باہر مخالفین اور دشمن اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر بحث کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، پاکستان ہم سب کا ہے، اس کے خلاف کوئی بات نہ کریں جس سے دوسروں کو ہمارے خلاف بات کرنے کا موقع ملے۔

چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے 6 ماہ کا وقت مانگا، ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں ،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.