جج ارشد ملک کا جعلی ویڈیو پر تحقیقات کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ‌ کو خط لکھنے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے الزامات کے بعد آج پریس ریلیز جاری کر کے وضاحت پیش کرنے والے جج ارشد ملک نے مبینہ ویڈیو اور الزامات کے خلاف چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق میڈیا رپورٹس میں‌ کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک اپنے خط میں ان ویڈیوالزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے. واضح رہے کہ آج انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں‌ کہا ہے کہ میں ارشد ملک احتساب عدالت کے جج کے فرائض انجام دے رہاہوں ، گزشتہ روز پریس کانفرنس میں مریم نوازشریف کی جانب سے جو ویڈیو دکھائی گئی وہ جھوٹی اور جعلی ہے ، مجھ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے میری ذات ، ادارے اور خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی ہے ،میں حقائق منظر عام پر لانا چاہتاہوں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے انہیں‌ بار بار رشوت کی پیشکش کی گئی اور تعاون نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں لیکن میں نے کوئی دباﺅ قبول نہیں کیا ، حق و سچ اور قانون کے مطابق کیسز کے فیصلے سنائے ۔ اگر دباﺅ یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا ۔یہ پریس کانفرنس میرے فیصلوں کو متاثر کرنے محض کی گئی ہے ۔

جج ارشد ملک نے اپنی پریس ریلیز میں‌ کہا ہے کہ ویڈیو حقائق کے برعکس ہے اور جو اس میں کی گئی گفتگو کوتو ڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس حوالہ سے ضروری ہے کہ سچ کو سامنے لایا جائے ، میں نے انصاف کرتے ہوئے نوازشریف کو العزیزیہ میں سز ا سنائی ، مجھ پر بطور جج بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی دباﺅ نہیں تھا ۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے پر جوالزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں. میں نے اپنی جان اور مال کو اللہ کے سپر د کر دیاہے.

واضح رہے کہ جج ارشد ملک چھٹی ہونے کے باوجود احتساب عدالت پہچے اور اپنا موقف جاری کیا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.