آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

آرٹیکل 370، کشمیر اور ہمارے رویے

صالح عبداللہ جتوئی

اگست تو ایسا مہینہ جب ہم خوشیاں مناتے تھے اور پورے پاکستان میں جشن کا سا سماں ہوتا تھا اور ہر طرف سبز ہلالی پرچم اور آزادی کی خوشیوں سے لبریز نغمے و ترانے گاۓ جاتے اور صد شکر ادا کیا جاتا اور سجدے کیے جاتے آخر یہ سب کیوں نہ ہو ہم اس مہینے میں آزاد جو ہوۓ تھے لیکن پھر کیا ہوا عرصہ دراز سے شہ رگ پاکستان کشمیر کی زندگی اجیرن کر دینے والے بھارت نے نت نئے طریقوں سے معصوم کشمیریوں کی قید و بند کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا اور اس طرح ہماری شہ رگ مزید دشمنوں کی جکڑ میں آ گئی لیکن پھر کیا ہوا وہ پاکستان جس کی شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں مضبوطی سے جکڑی گئی تو ہم نے بھی لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے اور امن امن کا راگ الاپنے لگ گئے کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ اپنا حق مانگنے کے لیے بھی ہتھیار اٹھاۓ تو ہمیں دنیا دہشت گرد ہی قرار نہ دے دے اور پھر ہم نے تقریروں، نغموں، احتجاجوں اور دھوپ میں کھڑے ہونا بہتر سمجھا تاکہ دنیا کو سمجھ آ جاۓ کہ ہم تو ظالموں کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں بھلا اس طرح بھی کوئی ساتھ ہوتا ہے؟
کیا نغموں سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا؟

کبھی بھی نہیں
‏‎نغموں سے کشمیر آزاد نہ ہو پاۓ گا اس کے لیے مذمت اور رونے دھونے کی بجاۓ انڈیا کی مرمت کرنی ہو گی نغمے تو پون صدی سے گاۓ جا رہے ہیں اور دن بھی کشمیر کے حوالے سے بہت منسوب ہو گئے ہیں لیکن کیا فائدہ ہوا اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے آگے اپنا دکھ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ انہیں مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اب جو بھی ہو گا وہ تقریروں، منتوں اور نغموں سے نہیں ہو گا بلکہ سخت کاروائی سے ہو گا۔

اب آرٹیکل 370 کے حوالے سے بھی دن پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پہ شامل ہو گیا ہے اور ایک اور دن پاکستان کو نغموں اور احتجاجوں کے لیے مل گیا اب اس کرفیو کو سال بیت گیا لیکن نغموں اور تقریروں سے کیا حاصل ہوا کیا ہمارے رویے سے کسی کے سر پہ جوں تک رینگی؟
کیا کشمیر آزاد ہوا؟
چلو آزادی کو چھوڑو یہ بتاؤ کیا کرفیو ختم ہوا یا کرفیو میں نرمی بھی آئی؟
نہیں نہ اور ایسے آنی بھی نہیں جس طرح ہمارے رویے ہیں کیونکہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہے ہم صرف باتوں کے شیر ہیں اور کشمیریوں کو بلاوجہ کی تسلیاں دیتے ہیں۔

ہمارے رویے یہ ہیں کہ ‏‎وہ جس دن ظلم کرتے ہیں ہم اس دن کبھی بلیک ڈے اور کبھی یکجہتی کا دن مناتے ہیں اور رونا روتے ہیں کہ بھارت جا جا کشمیر سے نکل جا اور کبھی چھوڑ دے ہماری وادی والے نغمے گاتے ہیں اور کبھی جمعہ والے دن دھوپ میں کھڑے ہو کے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور بھارت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اب سال گزر گیا اور یہ دن بھی تاریخی ہو گیا اور اسی طرح سالہا سال گزرتے جائیں گے اور 5 اگست کا دن بھی منایا جاتا رہے گا اور نغمے ریلیز ہوں گے اور بات نعروں تک ہی رہ جاۓ گی۔

‏‎پتہ نہیں کشمیری ہم سے کیونکر امیدیں لگا کے بیٹھے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے تو ہمیں نت نئے نغموں ترانوں اور دھوپ میں کھڑا ہونے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے موقع مل جاتا اور ہم مذمت بھی اچھے سے کر لیتے ہیں اور کشمیریوں کو جھوٹی تسلیاں بھی دے لیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ کس قسم کا ساتھ ہے جو احتجاج کر کے ہی دیا جاتا؟

پون صدی سے یہی احتجاج ہی تو جاری ہے لیکن انہوں نے ہمیں کشمیر کیوں نہیں دیا؟
اگر اس طرح نہیں مانتے تو ایک موسیقی کی محفل بارڈر پہ جا کے ہی منعقد کر کے دیکھ لیں پھر شاید بھارت کشمیر دے دے۔

واللہ ہمارے یہ رویے بہت تکلیف دہ ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ ہم نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کشمیریوں کے ترجمانوں کو کچھ کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کو پابند سلاسل کر کے ظالموں کو ہی خوش کرتے ہیں تو ہم کیسے مخلص ہو سکتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ؟

‏‎اللہ ہماری افواج اور سیاستدانوں کو نغموں مذمتوں اور احتجاجوں سے باہر نکال کر صحیح معنوں میں کشمیر کے ایجنڈے پہ کام کرنے اور بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور کشمیری بہن بھائیوں کو آزادیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب..
پاکستان زندہ باد
کشمیر پائندہ باد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.