پیپلزپارٹی کوعدالتی فیصلے پراعتراض ہے:آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کیلئے عدالت جائیں گے، بلاول بھٹؤ

کراچی :پیپلزپارٹی کوعدالتی فیصلے پراعتراض ہے:آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کیلئے عدالت جائیں گے،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔

بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔

درخواست گزار آرزو نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے’۔

آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف آج سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہلِ خانہ کی گرفتار سے روک دیا ہے۔

عدالت نے ایس ایچ او تھانہ پریڈی کو حکم دیا کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایس ایچ او فریئر تھانے و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 نومبر کو جواب طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ درخواست گزار آرزو فاطمہ نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔

آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.