تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

0
71

نصاب کے لغوی معنی راستہ ، رن وے ، گھوڑ دوڑ کے مقابلے کا راستہ ہے ۔جہان تک تعلیمی نصاب کا تعلق ہے اس کے مطابق ایسا نصاب جس کے تحت محتلف مدارج کے طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیت کے مطابق مجوزہ راستے کو اپنا سکیں ۔
نصاب کی ضرورت پیش کیوں آتی ہے ؟ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اور اس سے بڑھ کر کسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ ان تمام سوالات کےجواب ہمیں مختلف نصاب سازوں کی تحریروں اور نصاب ساز اداروں کی دستاویز سے مل جاتے ہیں ۔ سب سے پہلےان دستاویز سے ہمیں نصاب سازی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ایک بہتر اور جدید نصاب کی بدولت ہمارا معاشرہ فلاح اور کامیابی کی طرف ایک قوم کی صورت میں بڑھ سکتاہے۔
دوسرا سوال جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہےکہ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اس کے لیےماہرین تعلیم کی ہر دورمیں خواہش رہی ہے کہ نصاب کوجدید سے جدید بنایا جائے تاکہ ہماراطالب علم جدیددنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کوپورا کر تے ہوئےجدید عالمی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکے۔جدید نصاب سازی کے دوران معلم، متعلم ،تعلیم کےعالمی سطح پر مثبت اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئےطلبا کے فطری میلان کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا بہتر ین نصاب مرتب کیا جائے جس کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی ممکن ہو سکے۔
اس بحث میں تیسرا سوال یہ کہکسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لین تو یہاں بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائے ہوئی ہے گویا پاکستان میں تعلیمی نظاموں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے یہ وجہ ہے کہ موجودہ خومت نے اس قوم کو اس گورکھ دھندے سے نکالنے کے لیے ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ لگایا ہے اور اس کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قومی نصاب کونسل کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی نظاموں کے اکابرین کی کئی بیٹھکیں بلائیں گئیں جس میں مغربی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مذہبی مدارس نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اپنی اپنی سفارشات پیش کیں ۔ان سفارشات کو ایک قومی شکل دے کر پرائمری سطح تک کایکساں نصاب مرتب کیا گیا اور پھر اس بنیاد پر پرائمری سطح تک کی کتابیں چھاپی گئیں جوکہ موجودہ تعلیمی سال میں پڑھائی جارہی ہیں۔یکساں تعلیمی نصاب کی بدولت طبقائی نظام کا خاتمہ ہوگاجس سےطلبہ کی یکساں ذہنیت اور قومی سوچ ہونے کی وجہ سے برتری کا احساس ہوگا۔ اب مدارس کے طلبہ بھی اپنی تدریس کو یکساں اور جدیدنصاب کے تحت عصر حا ضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر قومی ترقی میں متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔
جبکہ دوسری طرف وہ ادارے جوغیر ملکی تعلیمی اداروں سے الحاق شدہ ہیں ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی ذہن سازی اس انداز میں کی جاتی تھی کہ آپ صرف حکمرانی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ جبکہ موجودہ نصاب ِواحد کے ذریعے اس طبقاتی تفریق کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماراقومی نصاب ایسا ہو جس سے پیدا کندگان کی تعداد میں اضافہ اور صارفین کی تعداد میں کمی آئے۔ ہماری افرادی قوت روایتی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے جدید تکنیکی تعلیم حاصل کرے۔تاکہ یہ ہنر مند افرادی قوت ہماری ملکی ضرورت کو پورا کرنےکے ساتھ ساتھ سمندر پار باعزت روزگار حاصل کر کے ملکی زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکیں۔
امید ہےہمارا یکساں تعلیمی نصاب قومی ضروریات اور کردار سازی میں بھر پور کردار ادا کرے گا۔شرط یہ ہے کہ نصاب سازی قومی اْمنگوں کے مطابق ہو۔
@iamAsadLal

Leave a reply