fbpx

سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !! تحریر: حسن ریاض آہیر

سعادت حسن مر گیا منٹو زندہ ہے !!

منٹو ادبی تاریخ کا وہ نام تھا جس نے اپنی قلم کے ذریعے ہمیں اور ہمارے معاشرے کو آئینہ دکھایا۔

ایک کہاوت ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکو میرے خیال میں منٹو صاحب نے صحیح معنوں میں اس کہاوت کو اپنی قلم کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے اس معاشرے کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔

منٹو جیسا نہ کبھی پھر آیا اور نہ کبھی آئے گا۔
جتنا میں نے سعادت حسن منٹو صاحب کو جانا ہے، تو ایک چیز واضح نظر آئی کہ جب جب اس معاشرے اور معاشرے کے ٹھیکیداروں کو انہوں نے اصل چہرہ دکھایا تو وہ نظر چراتے، بے ضمیر شرفاء اس معاشرے کے ٹھیکیدار منٹو سے ناراض ہوجاتے اور اپنی اس گستاخی کے لیے ان کو عدالت کے چکر لگانے پڑتے
اس معاشرے میں کچھ عناصر منٹو صاحب کے خلاف نہیں بلکہ انکی سوچ اور انکے قلم کے خلاف تھے، کیونکے سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے۔

جون ایلیاء کا یہ شعر منٹو صاحب کی بھرپور عکاسی کرتا ہے :
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

سعادت حسن منٹو نے بہت سے ناول لکھے اور ان میں اس معاشرے کے متعلق تلخ حقائق بیان کئے۔ بعد میں جن پہ ڈرامے اور فلم بندی بھی کی گئیں۔

انکے مشہور ناولز میں : کالی شلوار، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نوکر، بدنام اور ٹھنڈا گوشت وغیرہ شامل ہیں۔

منٹو صاحب کی کچھ کہی ہوئی باتیں جو سدا بہار ہیں اور آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے چند ایک :

” جس نیت سے طواف برقع پہنتی ہے کچھ مرد بلکل اسی نیت سے داڑھی رکھ لیتے ہیں ”

” جس ملک میں ہم رہتے ہیں، سر ننگا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ بندہ پورا ننگا ہو تو کہتے ہیں کہ بابا پہنچی ہوئی چیز ہے۔ ”

” مسجد میں شیعہ، سنی، وہابی سینما میں ایک ذات سالے مادر ذات ”

آخر میں ایک سوال …..
کیا آپ میں بھی منٹو ہے ؟

کالم نگار : حسن ریاض آہیر
Twitter Handel : @HRA_07